Latest News

اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: جعلی ڈگری پر تعینات جج برطرف،5 سال تک سناتا رہا فیصلے

اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: جعلی ڈگری پر تعینات جج برطرف،5 سال تک سناتا رہا فیصلے

اسلام آباد: پاکستان میں عدالتی نظام کو ہلا دینے والا ایک اہم معاملہ سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ  (IHC) نے 23 فروری کو 116 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عہدے سے ہٹا دیا۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ ان کی قانون کی ڈگری ابتدا ہی سے غیر مؤثر تھی، لہٰذا ہائی کورٹ کے جج کے طور پر ان کی تقرری بھی قانونی طور پر کالعدم تھی۔
  ایسے بے نقاب ہوا فراڈ
پاکستانی اخبار ڈان  کی رپورٹ کے مطابق عدالت کو یونیورسٹی آف کراچی  کے رجسٹرار سے اصل تعلیمی ریکارڈ موصول ہوا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ: 1988 میں انہوں نے جعلی انرولمنٹ نمبر کے ذریعے امتحان دیا۔  امتحان کے دوران نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے۔  1989 میں جامعہ نے ان پر تین سال کے لیے پابندی لگادی تھی ۔  اس کے باوجود مبینہ طور پر انہوں نے دھوکہ دہی کا سلسلہ جاری رکھا۔ اگلے برس طارق جہانگیری کے نام سے امتحان دیا اور ایسا انرولمنٹ نمبر استعمال کیا جو کسی اور طالب علم، امتیاز احمد، کو جاری ہوا تھا۔
گورنمنٹ اسلامیہ لا کالج (Government Islamia Law College ) کے پرنسپل نے بھی عدالت کو آگاہ کیا کہ جہانگیری کبھی ان کے ادارے میں باضابطہ طور پر داخل ہی نہیں ہوئے تھے۔  عدالت نے کہا کہ جسٹس جہانگیری کو متعدد مواقع دیے گئے کہ وہ اپنے اصل دستاویزات اور تحریری وضاحت پیش کریں، تاہم انہوں نے فل بینچ بنانے کی درخواست دی، چیف جسٹس کو کیس سے الگ کرنے کی اپیل کی،  سماعت ملتوی کرنے کی کوشش کی،اور مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں   زیرِ التوا ہے۔ بینچ نے ان اقدامات کو سماعت میں تاخیر کی حکمتِ عملی قرار دیا۔
عدالت نے کہا کہ جب درخواست گزاران خاطر خواہ شواہد پیش کر چکے تھے تو یہ ذمہ داری متعلقہ جج پر عائد ہوتی تھی کہ وہ اپنی ڈگری کی قانونی حیثیت ثابت کرتے۔ ناکامی کی صورت میں عدالت نے ان کی تقرری کو ابتدا ہی سے کالعدم قرار دے دیا۔ واضح رہے کہ جسٹس جہانگیری کو دسمبر 2020 میں ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا، جبکہ ستمبر 2025 سے انہیں عدالتی امور انجام دینے سے روک دیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں عدالتی تقرریوں کے طریقہ کار اور تصدیقی نظام کی شفافیت اور جوابدہی پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top