ہندوستانی مسلم معاشرے میں ایک دقیانوسی تصور بہت عام ہے کہ جب آپ کو نوکری نہیں ملے گی، تو پڑھ لکھ کر کیا کریں گے؟ اس دقیانوسی سوچ نے بہت سے مسلم نوجوانوں کو تعلیم کے ان کے بنیادی حق سے محروم کر کے انہیں مرکزی دھارے سے دور رکھا ہے۔
یہ دقیانوسی ذہنیت کیسے پیدا ہوئی اور اس کا پرچار کیوں کیا گیا یہ الگ بحث کا موضوع ہے۔ لیکن آج کے حالات میں اگر آپ تعلیم یافتہ ہیں اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا چاہتے ہیں تو مذہب یا ذات اس میں رکاوٹ نہیں آتی۔ شرط صرف یہ ہے کہ آپ میں قابلیت اور کچھ منفرد ہونا چاہیے۔ عالمی کاروبار اور انٹرنیٹ کے اس دور میں آپ اپنی قابلیت کے ساتھ دنیا کے اس سرفہرست مقام پر پہنچ سکتے ہیں جہاں آپ پہنچنا چاہتے ہیں۔
ایسی دقیانوسی ذہنیت کو توڑتے ہوئے اظہر اقبال کامیابی کی بلندیوں پر پہنچے ہیں۔ اظہر اقبال نے ایک چھوٹے سے فیس بک پیج سے ترقی کی اور 600 کروڑ کی کمپنی قائم کی۔درحقیقت آج کا جدید دور اطلاعاتی انقلاب کا دور ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ نے معلومات کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔ ایک شخص دنیا کے کسی بھی کونے میں 4*4 کمرے میں بیٹھ کر صرف ایک کلک سے پوری دنیا میں ہونے والے واقعات کو حاصل کرسکتا ہے۔
اس کے علاوہ وہ اپنے موبائل پر صرف ایک بٹن پر کلک کرکے اپنے ارد گرد ہونے والے واقعات کو دنیا کے سامنے پہنچا سکتا ہے۔جدید دنیا میں جہاں ٹیکنالوجی نے لوگوں کے لیے معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار اور سٹارٹ اپس کے بہترین مواقع بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ اظہر اقبال بھی ایسے ہی نوجوان ہیں، جنہوں نے معلوماتی انقلاب میں اپنی قابلیت کے بل بوتے پر ایک فیس بک پیج سے کروڑوں کی کمپنی قائم کی۔
دہلی کے IIT کے سابق طالب علم اظہر اقبال نے اپنے دو IITian دوستوں دیپت پورکایاستھا اور انونے ارناو کے ساتھ 2013 میں ''InShorts'' کے نام سے ایک ایپلی کیشن لانچ کی، جس میں دنیا بھر کی خبروں اور معلومات کو حاصل کرنے کے لیے بورنگ اور سخت الفاظ پرمشتمل بڑے مضامین پڑھنے کی ضرورت کو ختم کرتے ہوئے اسے صرف 60 الفاظ تک محدود کر دیا گیا۔
یہاں دستیاب مواد لوگوں کے لیے بہت دلچسپ اور آسان ہے۔ Inshorts Android اور iOS دونوں صارفین کے لیے پلیٹ فارم پیش کرتا ہے۔ایسی ایپلی کیشن بنانے کا خیال کہاں سے آیا؟ اس بارے میں اظہر نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے اپنے کالج کے دنوں میں دیکھا کہ بہت سے لوگ ہر روز معلومات سے اپ ڈیٹ نہیں رہ پاتے۔ وہ اپنے اردگرداور ملک اور بیرون ملک کے حالات سے واقف نہیں ہوتے۔ بہت سے طلبا کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا ہے کہ ہندوستان کا وزیر داخلہ کون ہے۔ ان سب چیزوں کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ لوگوں تک معلومات پہنچانے کے ذرائع میں کچھ کمی ہے جس کی وجہ سے معلومات لوگوں تک نہیں پہنچ رہی ہیں۔ جس کے بعد اس موضوع پر کام کو آگے بڑھایا گیا۔
اس تناظر میں تمام تحقیق اور حقائق کو اکٹھا کیا گیا جس کے بعد انشورٹس نیوز کا خیال آیا۔تاہم اظہر اور اس کے دوستوں کے لیے یہ اتنا آسان نہیں تھا۔ اس کے لیے انہوں نے بہت محنت کی۔ ابتدا میں اظہر نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک فیس بک پیج بنایا۔ اس پیج پر کام کرتے ہوئے تھوڑے ہی عرصے میں اس پیج کو 1 لاکھ سے زیادہ پیج لائکس مل گئے۔ اس فیس بک پیج کی کامیابی سے اظہر اور ان کی ٹیم کو بہت حوصلہ ملا۔ جس کے بعد اظہر کی ٹیم اپنے اگلے ہدف تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگی۔ ان کی ٹیم نے Inshorts ایپلی کیشن کا آغاز کیا۔ ایپ کے لانچ ہونے کے چند مہینوں میں 10,000 سے زیادہ ڈان لوڈز ہو گئے۔ ایپلی کیشن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے، ای کامرس کمپنی فلپ کارٹ نے Inshorts میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور 25 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی۔
اس کے بعد ٹائیگر گلوبل انویسٹرس نے بھی 127 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی۔ سرمایہ کاری حاصل کرنے کے بعد، اظہر کی ٹیم نے تیز رفتاری سے اس ایپلی کیشن کی کامیابی کے لیے سخت محنت کی۔ان کی محنت کی وجہ سے اس ایپلی کیشن کی مقبولیت میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور اسے 30 لاکھ سے زائد ڈان لوڈز حاصل ہو چکے ہیں۔ ایپ اپنے لانچ کے ایک سال کے اندر فوربس کی انڈر 30 فہرستوں میں شامل ہوگئی۔
انٹرنیٹ اینڈ موبائل ایسوسی ایشن آف انڈیا (IAMAI) نے بھی اظہر اور ان کی ٹیم کو بہترین اختراعی ایپ کا ایوارڈ پیش کیا۔ فی الحال، Inshorts کے 10 ملین سے زیادہ صارفین ہیں اور ہر ماہ 3 بلین سے زیادہ پیج ویوز ہیں۔ یہ ہندی، بنگالی، پنجابی، تیلگو، تامل، کنڑ، ملیالم، اوڈیا، آسامی، گجراتی اور مراٹھی سمیت تمام بڑی زبانوں میں دستیاب ہے۔اظہر اقبال کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا نہیں بلکہ ملک کے نوجوانوں کو واقعات اور حقائق کے بارے میں درست معلومات فراہم کرنا ہے۔
(مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالراور فری لانس صحافی ہیں)