انٹرنیشنل ڈیسک: آسٹریلیا میں ہندوستانی نژاد 42 سالہ شخص وکرانت ٹھاکر نے عدالت میں اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کی جان لی، تاہم انہوں نے قتل کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے غیر ارادی قتل کا جرم قبول کرنے کی بات کہی ہے۔ وکرانت ٹھاکر نے ویڈیو لنک کے ذریعے ایڈیلیڈ مجسٹریٹ کورٹ میں پیش ہوتے ہوئے کہا کہ میں غیر ارادی قتل کا جرم قبول کرتا ہوں لیکن قتل کا مجرم نہیں ہوں۔ یہ بیان ان کے وکیل جیمز مارکس کی ہدایت پر دیا گیا۔ یہ ان کی دوسری عدالتی پیشی تھی جب سے ان پر 36سالہ اہلیہ سپریا ٹھاکر کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
قانونی طور پر قتل اور غیر ارادی قتل کے درمیان بنیادی فرق نیت کا ہوتا ہے۔ قتل میں جان بوجھ کر کسی کی جان لینا شامل ہوتا ہے جبکہ غیر ارادی قتل میں موت پیشگی منصوبہ بندی یا نیت کے بغیرواقع ہوتی ہے۔ یہ مقدمہ اب اپریل میں دوبارہ عدالت میں پیش ہوگا جس کے بعد وکرانت ٹھاکر کو جنوبی آسٹریلیا کی سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے لیے پیش کیا جائے گا۔ استغاثہ اس وقت ڈی این اے رپورٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سمیت دیگر شواہد کا انتظار کر رہا ہے۔
یہ واقعہ 21دسمبر کو ایڈیلیڈ کے نارتھ فیلڈ علاقے میں پیش آیا تھا۔ پولیس کو شام تقریباً 8 بج کر 30 منٹ پر گھریلو تنازع کی اطلاع ملی۔ موقع پر پہنچنے والی پولیس نے سپریا ٹھاکر کو بے ہوشی کی حالت میں پایا۔ سی پی آر دینے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی جان نہ بچائی جا سکی۔ پولیس کے مطابق واقعے کے وقت گھر میں ایک اور شخص بھی موجود تھا جسے کوئی چوٹ نہیں آئی۔ تفتیش کے تحت میاں بیوی کے موبائل فون بھی ضبط کر لیے گئے ہیں۔ سپریا ٹھاکر کے لیے بنائے گئے گو فنڈ می پیج کے مطابق وہ ایک حساس اور مددگار مزاج خاتون تھیں اور رجسٹرڈ نرس بننا چاہتی تھیں۔ ان کی اچانک موت نے ان کے بیٹے کو ماں سے محروم کر دیا ہے اور اس کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔