واشنگٹن:امریکہ کے سینئر سینیٹر مارک آر وارنر نے پاکستان میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو خط لکھ کر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سیاسی رہنماوں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف کارروائی، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور ٹرانس نیشنل ریپریشن یعنی بیرون ملک اختلاف رائے کو دبانے کی کوششوں پر سفارتی اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ وارنر نے اپنے خط میں پاکستان کے 2024 کے عام انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات نہ صرف 2023 سے موخر کیے گئے بلکہ ان میں تشدد، مداخلت اور بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات بھی لگے۔ انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ اور بین الاقوامی اداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات میں اظہار رائے، تنظیم اور پرامن احتجاج کی آزادی پر ناجائز پابندیاں عائد کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ انتخابات کے بعد عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کے حامیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی ہوئی۔ اگرچہ پی ٹی آئی سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والی جماعت بنی، لیکن اسے اقتدار سے دور رکھا گیا۔ وارنر کے مطابق، انتخابات سے پہلے اور بعد میں بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماوں کو حراست میں لیا گیا۔ خط میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری پر خصوصی تشویش ظاہر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ آن آربیٹریری ڈیٹینشن نے 2024 میں واضح کیا تھا کہ عمران خان کی حراست کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے اور اس کا مقصد انہیں سیاست سے باہر کرنا تھا۔ سینیٹر وارنر نے پاکستانی صحافیوں کے خلاف غیر حاضری میں سنائی گئی عمر قید کی سزاو¿ں اور شہریوں پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کی دھمکیوں کو بھی جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیا۔
اس کے علاوہ، انہوں نے امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد افراد، خاص طور پر ورجینیا میں آباد شہریوں کو دھمکانے اور ان کے اہل خانہ کو پاکستان میں نشانہ بنائے جانے کے الزامات بھی اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب اپوزیشن کی آواز دبانے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔ وارنر نے مطالبہ کیا کہ امریکہ میں رہنے والے افراد کے خلاف کسی بھی ٹرانس نیشنل جبر کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے بین الاقوامی شراکت دار مل کر ان معاملات سے نمٹیں۔ اس دوران برطانیہ کے اخبار دی گارجین نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ لندن پولیس پاکستانی اختلاف رائے رکھنے والوں پر ہونے والے حملوں کی تحقیقات کر رہی ہے، جن میں ریاستی حمایت یافتہ مجرمانہ نیٹ ورکس کے کردار کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔