National News

ایرانی رہنما علی لاریجانی کا واضح پیغام : اب امریکہ سے کوئی مذاکرات نہیں، مغربی ایشیا میں افراتفری کے لئے ٹرمپ ذمہ دار

ایرانی رہنما علی لاریجانی کا واضح پیغام : اب امریکہ سے کوئی مذاکرات نہیں، مغربی ایشیا میں افراتفری کے لئے ٹرمپ ذمہ دار

انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کے بااثر رہنما اور سلامتی امور سے وابستہ سینئر عہدے دار علی لاریجانی (Ali Larijani) نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت ممکن نہیں ہے۔ امریکی میڈیا نیٹ ورک سی این بی سی کی تازہ خبر کے مطابق انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں نے خطے کو غیر مستحکم کر دیا ہے اور حالیہ واقعات اسی افراتفری کی حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔ علی لاریجانی نے پیر کے روز سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر صاف کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔
یہ بیان اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دی وال اسٹریٹ جرنل نے دعوی کیا تھا کہ عمان کے ذریعے تہران امریکہ سے پس پردہ بات چیت کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اے بی سی نیوز سے گفتگو میں امریکی حملوں کو جارحیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو امریکہ کر رہا ہے وہ حملہ ہے اور جو ہم کر رہے ہیں وہ اپنا دفاع ہے۔ اس کے بعد ایران نے خطے میں کئی امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ 28  فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت ہو گئی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس فوجی کارروائی کو دنیا کے سب سے بڑے اور پیچیدہ فوجی آپریشنوں میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تمام اہداف پورے نہیں ہو جاتے۔ 
امریکہ کے محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں امریکہ، بحرین، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایران کے حملوں کو اندھا دھند اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ ان ملکوں نے اسے علاقائی استحکام کے لئے خطرناک اشتعال انگیزی بتایا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top