Latest News

چین کی جوہری طاقت 2030 تک ہو جائے گی دوگنی ، اروناچل پردیش سے محض اتنی دورکیا ہو رہی  تیاری ؟

چین کی جوہری طاقت 2030 تک ہو جائے گی دوگنی ، اروناچل پردیش سے محض اتنی دورکیا ہو رہی  تیاری ؟

انٹرنیشنل ڈیسک: چین تیزی سے اپنے جوہری ہتھیاروں کی طاقت بڑھا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس اور سیٹلائٹ تصاویر سے اشارے ملے ہیں کہ چین اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں کے ذخیرے میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 2026 تک چین کے پاس تقریبا 600 جوہری وار ہیڈز ہو سکتے ہیں۔ اس معاملے میں وہ روس اور امریکہ کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ رکھنے والا ملک بن چکا ہے۔
موازنہ کریں تو روس کے پاس تقریبا 5,400 اور امریکہ کے پاس 5,100 سے 5,200 کے درمیان وار ہیڈز بتائے جاتے ہیں۔ اگرچہ چین ابھی ان دونوں ممالک سے کافی پیچھے ہے، لیکن اس کی بڑھتی رفتار کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2030 تک وہ 1,000 سے زیادہ وار ہیڈز کا ہدف حاصل کر سکتا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر سے ہوا انکشاف
میڈیا رپورٹس، خاص طور پر نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، سیٹلائٹ امیجز کے ذریعے چین کی خفیہ تیاریوں کا پتہ چلا ہے۔ ان تصاویر میں سچوان صوبے کی وادیوں میں واقع دو خاص جگہوں، جِٹونگ اور پنگ ٹونگ کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ علاقے ہندوستان کے اروناچل پردیش سے تقریبا 800 کلومیٹر دور بتائے جا رہے ہیں۔
دعوی کیا گیا ہے کہ یہاں ہزاروں سائنسدان، انجینئر اور مزدور پہاڑوں کے اندر بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں اسے ایک طرح کا اندرونی جوہری سلطنت بتائی گئی ہے ۔
2019 کے بعد تیز ہوا ترقی
جیو اسپیشل انٹیلی جنس ماہر رینی بابیارز نے ان سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، 2019 کے بعد چین کی مختلف نیوکلیئر سائٹس پر تعمیرات اور توسیع کی رفتار کافی بڑھ گئی ہے۔ زمین کے ڈھانچے میں جو تبدیلیاں دکھ رہی ہیں، وہ چین کے سپر پاور بننے کے ہدف کے مطابق ہیں، جس میں جوہری ہتھیار اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کیا یہاں ہو رہی ہے نیوکلیئر ٹیسٹنگ
رپورٹس کے مطابق، جٹونگ علاقے میں انجینئروں نے وادی کے علاقے میں نئے بنکر اور مضبوط قلعہ بند ڈھانچے بنائے ہیں۔ ایک بڑے کمپلیکس میں بھاری پائپ لائن سسٹم بھی نظر آیا ہے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ یہاں خطرناک اور حساس مواد کو سنبھالا جا رہا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے بنکرز اور محفوظ مقامات کا استعمال ہائی ایکسپلوسِو یعنی اعلی دھماکہ خیز مواد کی ٹیسٹنگ کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ ہائی ایکسپلوسِو کی پرت کے اندر جب شاک ویو مرکز کی طرف جاتی ہے، تو اس کی درستگی جانچنے کے لیے بلاسٹ ٹیسٹ ضروری ہوتا ہے۔ یہ عمل جوہری ہتھیاروں کے ڈیزائن کو بہتر اور زیادہ مؤثر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
2030 تک دگنا ہو سکتا ہے اسٹاک
رپورٹس کے مطابق، 2030 تک چین کا جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ تقریبا ًدگنا ہو سکتا ہے۔ پینٹاگون کے اندازے کے مطابق، 2024 کے آخر تک چین کے پاس 600 سے زیادہ وار ہیڈز تھے۔ اندازہ ہے کہ 2030 تک یہ تعداد 1,000 تک پہنچ سکتی ہے۔ اگرچہ یہ تعداد اب بھی روس اور امریکہ سے کافی کم ہے، لیکن اتنی تیز رفتار سے اضافہ ہونا بین الاقوامی سطح پر تشویش کا سبب بن رہا ہے۔
بین الاقوامی معاہدے پر سوال
امریکی اہلکاروں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں اگر کوئی نیا جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کا معاہدہ ہوتا ہے، تو اس میں چین کو شامل کرنا ضروری ہوگا۔ تاہم بیجنگ نے اب تک ایسے کسی معاہدے میں خاص دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔ فی الحال سیٹلائٹ تصاویر سے مکمل معلومات نہیں ملتی اور چین کے پاس حقیقت میں کتنے وار ہیڈز ہیں، اس کی درست تعداد عوام کے لیے دستیاب نہیں ہے۔ لیکن ان تصاویر میں پلانٹ اور ڈھانچے کی مسلسل توسیع صاف نظر آ رہی ہے، جو چین کی بڑھتی جوہری خواہش کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top