Latest News

ہندوستان کا بجٹ بنا عالمی توجہ کا مرکز، کیوں ہر سال یکم فروری کو ٹھیک 11بجے ہی پیش ہوتا ہے، جانئے برطانوی تعلق

ہندوستان کا بجٹ بنا عالمی توجہ کا مرکز، کیوں ہر سال یکم فروری کو ٹھیک 11بجے ہی پیش ہوتا ہے، جانئے برطانوی تعلق

 انٹرنیشنل ڈیسک: بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں اور تجزیہ کاروں کے تبصروں کے مطابق بجٹ 2026 ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پوری دنیا میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور معاشی غیر یقینی کی فضا قائم ہے۔ ہندوستان  کا مرکزی بجٹ 2026-27 نہ صرف ملک کے لیے بلکہ عالمی معیشت، سرمایہ کاروں، غریب اور متوسط طبقے اور برآمد کنندگان کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کار اسے اہم معاشی اشارہ اور عالمی قیادت کے کردار کی سمت ایک قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ہندوستانی معیشت کو دنیا کی دیگر بڑی معیشتوں کے مقابلے میں خاصی مضبوط قرار دیا جا رہا ہے۔ ہندوستانی برآمد کنندگان نے کہا ہے کہ بجٹ سے داخلی منڈی میں مضبوطی، ٹیکس میں رعایت اور سرمایہ کاری کی معاونت کی امید ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی محصولات اور معاشی دبا ؤ کے باعث برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق بجٹ میں ان تمام پہلوؤں پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ ہندوستان کی مصنوعات عالمی منڈیوں میں مسابقتی رہیں۔

PunjabKesari

بین الاقوامی سرمایہ کار بجٹ کے اعداد و شمار اور ممکنہ پالیسیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، خاص طور پر بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، ٹیکس اصلاحات اور عالمی تجارت کو فروغ دینے والے اقدامات پر۔ اس کا اثر ہندوستانی شیئر بازاروں پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں بجٹ سے پہلے بے یقینی اور احتیاط کا ماحول بنا ہوا ہے۔ ہندوستان کا بجٹ صرف معاشی پالیسیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ جغرافیائی سیاسی اشاروں کا بھی ایک حصہ بنتا جا رہا ہے۔ جنگوؤں اور بین الاقوامی کشیدگی کے درمیان بجٹ کے فیصلے دفاع، ٹیکنالوجی اور برآمدات پر مبنی صنعتوں کو سہارا دینے کی سمت میں دیکھے جا رہے ہیں۔

UNION BUDGET 2026 LIVE: Nirmala Sitharaman's Budget Speech LIVE https://t.co/tmxK18Envk

— ThePrintIndia (@ThePrintIndia) February 1, 2026


کیوں ہر سال یکم فروری کو ٹھیک گیارہ بجے ہی پیش ہوتا ہے ملک کا بجٹ 
ہندوستان کا مرکزی بجٹ ہر سال یکم فروری کو صبح گیارہ بجے پارلیمنٹ میں پیش کیا جاتا ہے۔ چاہے وہ کام کا دن ہو یا اتوار، حکومت اس طے شدہ وقت سے پیچھے نہیں ہٹتی۔ اس کے پیچھے تاریخی، انتظامی اور مالی وجوہات وابستہ ہیں۔ ہندوستان کا مالی سال یکم اپریل سے شروع ہوتا ہے۔ ایسے میں یکم فروری کو بجٹ پیش کرنے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ کو بجٹ پر بحث، ترمیم اور منظوری کے لیے مناسب وقت مل سکے۔ اس سے مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں اور مختلف وزارتوں کو نئی اسکیموں اور پالیسیوں پر بروقت عمل درآمد کی تیاری کا موقع ملتا ہے۔ البتہ یہ نظام ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ برطانوی دورِ حکومت میں بجٹ فروری کے آخری کام کاجی دن پیش کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے کئی بار منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر ہو جاتی تھی۔

PunjabKesari
 ارون جیٹلی نے بدلی روایت 
اس روایت کو2017  میں اس وقت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے تبدیل کیا اور بجٹ کو فروری کے پہلے دن پیش کرنے کا آغاز کیا۔ بجٹ پیش کرنے کے وقت میں بھی بڑی تبدیلی کی گئی۔ پہلے بجٹ شام پانچ بجے پیش کیا جاتا تھا تاکہ برطانیہ کے کاروباری وقت کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رہے۔ لیکن 199  میں وزیر خزانہ یشونت سنہا نے اس نوآبادیاتی روایت کو ختم کرتے ہوئے بجٹ کو صبح گیارہ بجے پیش کرنے کی شروعات کی۔ اس سے پارلیمنٹ میں اسی دن تفصیلی بحث ممکن ہو سکی ۔اگر یکم فروری اتوار یا تعطیل کے دن آتا ہے تب بھی بجٹ اسی دن پیش کیا جاتا ہے۔ یہ حکومت کی بروقت مالی منصوبہ بندی اور انتظامی نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے۔

PunjabKesari
 اتوار کو بھی بجٹ کیوں ؟ 
اگر یکم فروری اتوار ہو تب بھی بجٹ اسی دن پیش کیا جاتا ہے۔ یہ حکومت کی بروقت مالی منصوبہ بندی اور انتظامی نظم و ضبط کو ظاہر کرتا ہے۔ 2026 میں بھی بجٹ اتوار کے دن پیش کیا گیا، جو اسی وابستگی کی مثال ہے۔

  • یکم فروری بروقت عمل درآمد کے لیے۔
  • گیارہ بجے ہندوستانی نظام کے مطابق۔
  • برطانوی روایت سے ہٹ کر آزاد ہندوستان کا فیصلہ۔


Comments


Scroll to Top