Latest News

بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کے رہنما کی جیل میں مشتبہ موت، کٹہرے میں یونس کی عبوری حکومت

بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کے رہنما کی جیل میں مشتبہ موت، کٹہرے میں یونس کی عبوری حکومت

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں عوامی لیگ سے وابستہ دو رہنماؤں کی الگ الگ واقعات میں موت نے عبوری حکومت اور امن و امان کی صورت حال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پارٹی رہنماؤں اور اہل خانہ کا الزام ہے کہ یہ واقعات سیاسی جبر اور منظم تشدد کا نتیجہ ہیں۔ چٹاگا نگ میں عوامی لیگ کے سینئر رہنما عبد الرحمان میاں (70) کی جیل حراست میں موت ہو گئی۔ وہ چٹاگانگ سٹی عوامی لیگ کے وارڈ 24 (نارتھ اگراباد) یونٹ کے نائب صدر تھے۔ اہل خانہ کے مطابق، میاں پھیپھڑوں کے شدید سرطان سمیت کئی سنگین بیماریوں میں مبتلا تھے، اس کے باوجود انہیں ضمانت نہیں دی گئی اور مناسب طبی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی۔
بتایا گیا ہے کہ 17 نومبر 2025 کو انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا، جب وہ نماز پڑھنے کے لیے گھر سے نکل رہے تھے اور چلنے کے قابل بھی نہیں تھے۔ پولیس نے انہیں کوتوالی تھانے میں درج ایک مقدمے میں حراست میں لیا۔ خاندان کا کہنا ہے کہ ان کی حالت مسلسل بگڑتی گئی اور تین ماہ بعد حراست کے دوران ہی ان کی موت ہو گئی۔ اب تک حکام کی جانب سے موت کی وجوہات پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ دوسرا واقعہ نرسنگدی ضلع کا ہے، جہاں عظیم القادر بھوئیاں (45) کی مسخ شدہ لاش ایک نالے سے برآمد کی گئی۔ وہ پیشے کے اعتبار سے پولٹری کے تاجر تھے اور ماضی میں عوامی لیگ کی طلبہ شاخ چھاترا لیگ سے وابستہ رہے تھے۔ تین دن سے لاپتہ عظیم القادر کے قتل سے پارٹی حامیوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
عوامی لیگ کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ اس قتل میں جماعت اسلامی سے وابستہ عناصر ملوث ہو سکتے ہیں اور عبوری حکومت نے بے سزا ہونے کا ماحول بنا دیا ہے۔ تاہم پولیس نے فی الحال کسی سیاسی سازش کی تصدیق نہیں کی ہے اور تفتیش جاری ہونے کی بات کہی ہے۔ ان دونوں واقعات کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے من مانے طریقے سے گرفتاریوں، حراست میں اموات اور سیاسی تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذمہ داری کے تعین اور قانون کی بالادستی کی بحالی کے لیے آزاد اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top