نیو یارک: جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین سے متعلق نئے دستاویزات سامنے آنے کے بعد عالمی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ ان انکشافات کے باعث سلوواکیہ کے اعلیٰ عہدیدار اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سابق صدر میروسلاو لاجیک نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جسے ملک کے وزیر اعظم نے قبول کر لیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے جمعہ کو ایپسٹین سے متعلق کئی اہم فائلیں منظر عام پر لائیں، جن میں دنیا بھر کے امیر اور بااثر افراد کے ساتھ اس کے روابط کی تفصیلات شامل ہیں۔ یہ فائلیں اس دور سے تعلق رکھتی ہیں جب ایپسٹین فلوریڈا میں جنسی جرائم کے معاملے میں سزا کاٹ چکا تھا۔
اگرچہ لاجیک پر کسی بھی قسم کے غیر قانونی فعل کا الزام نہیں ہے، لیکن ایپسٹین کی جیل سے رہائی کے بعد دونوں کی ملاقاتوں سے متعلق تصاویر اور ای میلز سامنے آنے کے بعد انہوں نے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان انکشافات کے بعد برطانیہ کے سابق شہزادے اینڈریو ما۔نٹ بیٹن- ونڈسر کے حوالے سے بھی بحث تیز ہو گئی ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اشارہ دیا کہ شہزادہ اینڈریو کو ایپسٹین کی سرگرمیوں سے متعلق جو بھی معلومات حاصل ہیں، وہ امریکی تفتیشی اداروں کے ساتھ شیئر کرنی چاہئیں۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دستاویزات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فائلیں خود نہیں دیکھیں، لیکن انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ دستاویزات انہیں جرم سے بری ثابت کرتی ہیں اور بعض بائیں بازو کے حلقوں کی توقعات کے بالکل برعکس ہیں۔
محکمہ انصاف کی ویب سائٹ پر جاری ریکارڈ میں شہزادہ اینڈریو، ٹرمپ کے سابق مشیر اسٹیو بینن، نیویارک جائنٹس کے شریک مالک اسٹیو ٹِسک، ارب پتی بل گیٹس، ایلون مسک، اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود براک، گوگل کے شریک بانی سرگئی برِن اور کئی دیگر اہم شخصیات سے متعلق خط و کتابت شامل ہے۔ دستاویزات کے مطابق ایف بی آئی نے جولائی 2006 میں ایپسٹین کے خلاف تفتیش شروع کی تھی۔ ریکارڈ اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ ایپسٹین کے امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن اور ڈونالڈ ٹرمپ دونوں کے ساتھ ذاتی تعلقات تھے۔ اگست 2019 میں فردِ جرم عائد ہونے کے ایک ماہ بعد ایپسٹین نے نیویارک کی جیل میں خودکشی کر لی تھی۔