نیشنل ڈیسک: ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان طویل عرصے سے جاری مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کی بات چیت بالآخر مکمل ہو گئی ہے۔ تجارت کے سیکرٹری راجیش اگروال نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی نقط نظر سے یہ معاہدہ متوازن، دور اندیش اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس سے ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی انضمام کو نئی رفتار ملے گی۔
راجیش اگروال کے مطابق آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اس وقت معاہدے کے مسودے کی قانونی جانچ کا عمل جاری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ تمام رسمی کارروائیاں جلد مکمل کر کے اسی سال کے اندر معاہدے پر دستخط کر دیے جائیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ معاہدہ اگلے سال کے آغاز میں نافذ ہو سکتا ہے۔
منگل کو ہونے والی ہندوستان - یورپی یونین سربراہی ملاقات میں اس اہم آزاد تجارتی معاہدے کے اختتام کے ساتھ ساتھ تزویراتی دفاعی معاہدے اور مہاجرین کی آسان آمد و رفت جیسے اہم امور پر بھی اتفاق رائے ہونے کا امکان ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اس سربراہی اجلاس میں یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈر لیین اور یورپی کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا کی میزبانی کریں گے۔
یہ سربراہی ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب تجارت اور سلامتی سے متعلق واشنگٹن کی پالیسیوں کے باعث عالمی جغرافیائی سیاسی ماحول میں بے یقینی دیکھی جا رہی ہے۔ ایسے میں ہندوستان اور یورپی یونین کی شراکت داری کو ایک وسیع اور مستحکم نقط نظر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس سے قبل پیر کو انٹونیو کوسٹا اور ارسولا وان ڈر لیین نے کرتویہ پتھ پر منعقدہ 77 ویں یوم جمہوریہ کی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ وان ڈر لیین نے کہا کہ ایک مضبوط اور کامیاب ہندوستان دنیا کو زیادہ مستحکم، خوشحال اور محفوظ بناتا ہے۔ انہوں نے یوم جمہوریہ کی پریڈ میں یورپی یونین کے فوجی دستے کی شرکت کو دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتے ہوئے سلامتی تعاون کی علامت قرار دیا۔
یورپی یونین کے تجارت اور اقتصادی سلامتی کے کمشنر ماروش شیفکووچ نے بھی اس بات کے اشارے دیے کہ ہندوستان یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کو منگل کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوم جمہوریہ کے موقع پر ہندوستان کا مہمان بننا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے اور اس سے دونوں فریقوں کی شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔
ارسولا وان ڈر لیین اس معاہدے کو پہلے ہی تاریخی قرار دے چکی ہیں۔ ان کے مطابق یہ آزاد تجارتی معاہدہ تقریبا دو ارب افراد پر مشتمل مشترکہ منڈی تشکیل دے گا، جو عالمی مجموعی گھریلو پیداوار کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہوگا۔ اس طرح ہندوستان اور یورپی یونین کا یہ معاہدہ نہ صرف اقتصادی بلکہ تزویراتی اعتبار سے بھی ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔