انٹرنیشنل ڈیسک: وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس ہفتہ کی صبح سویرے زور دار دھماکوں سے لرز اٹھا۔ دارالحکومت کے مغربی حصے میں واقع فورٹ ٹیونا فوجی اڈے، لا کارلوٹا ایئر بیس اور ہِگِیروٹے ایئرپورٹ سمیت کئی اہم مقامات کو نشانہ بنائے جانے کی خبر ہے۔ رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، کم بلندی پر اڑنے والے طیاروں سے بمباری کی گئی، جس سے عمارتیں ہل گئیں اور شہر کے اوپر دھویں کے بادل چھا گئے۔
وینزویلا کی حکومت نے ان حملوں کے لیے براہِ راست امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ صدر نکولس مادورو نے اسے ملک کی خودمختاری پر براہِ راست فوجی حملہ قرار دیتے ہوئے قومی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ حملے کاراکس کے علاوہ میرانڈا، اراگوا اور لا گویرا ریاستوں میں بھی کیے گئے۔
اسی دوران، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایک “مکمل طور پر کامیاب آپریشن” کے تحت صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریز کو حراست میں لے کر ملک سے باہر بھیج دیا ہے۔
تاہم، وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے کہا ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ اس وقت “لاپتہ” ہیں، جس سے حالات اور زیادہ پراسرار ہو گئے ہیں۔ امریکہ نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر وینزویلا چھوڑنے کی ہدایت دی ہے اور ایف اے اے نے وینزویلا کی فضائی حدود میں امریکی کمرشل طیاروں کی پروازوں پر پابندی لگا دی ہے۔ وینزویلا کی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ یہ حملہ علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے اور ملک اپنے دفاع کے حق کا استعمال کرے گا۔