Latest News

امریکی فوجی گھیرا بندی پر ایران کی جارحیت: خامنہ ای نے جنگی بیڑے کی ڈوبتی تصویر شیئر کی

امریکی فوجی گھیرا بندی پر ایران کی جارحیت: خامنہ ای نے جنگی بیڑے کی ڈوبتی تصویر شیئر کی

انٹر نیشنل ڈیسک: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ اب کھلی جنگ کے اشاروں کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر  آیت اللہ علی خامنہ ای (Ayatollah Ali Khamenei) نے امریکہ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس ایسے ہتھیار ہیں جو امریکی جنگی بیڑے کو سمندر میں ہی ڈبو سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ تہران بھی کسی بھی تصادم کے لیے خود کو تیار سمجھ رہا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب یو نائیٹڈ اسٹیٹ( United States )نے مڈل ایسٹ میں اپنی عسکری موجودگی اچانک بڑھا دی ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں امریکہ نے 50 سے زیادہ جدید لڑاکا جہاز تعینات کیے ہیں، جن میں F-22, F-35 اور F-16 جیسے فائٹر جیٹ شامل بتائے جا رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ہوائی ایندھن بھرنے والے ٹینکر بھی بھیجے گئے ہیں، جو طویل عسکری مہم کی تیاری کا اشارہ دیتے ہیں۔

🇺🇲 𝐄𝐓𝐀𝐓𝐒-𝐔𝐍𝐈𝐒 🇺🇲
Le porte-avions américain USS Gerald R. Ford est entré dans le détroit de Gibraltar et se dirige maintenant vers la mer Méditerranée.

Selon les évaluations actuelles, le porte-avions pourrait atteindre une position à portée de frappe de l'Iran vers le… https://t.co/5q9fy0zQY5 pic.twitter.com/O5TmZfjPuo

— Beau Gosse Prétentieux_Backup (@BoGossPrebackup) February 17, 2026


خامنہ ای کا سیدھا حملہ ٹرمپ پر
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جنگی جہاز بھیجنے کے دعوے پر پلٹ وار کرتے ہوئے خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر ایک متنازع تصویر شیئر کی۔ اس تصویر میں امریکہ کا بڑا ائیرکرافٹ کیریئریو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ ( USS  Gerald R. Ford ) سمندر کے نیچے ڈوبا ہوا دکھایا گیا ہے، ساتھ میں قبر کا نشان بھی لگایا گیا ہے۔ خامنہ ای نے لکھا کہ جنگی جہاز خطرناک ہوتے ہیں، لیکن ان سے بھی زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہیں جو ایسے جہازوں کو سمندر میں سما سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اشارہ ایران کی اینٹی شپ میزائل صلاحیتوں کی طرف ہے۔

🇮🇷 𝐈𝐑𝐀𝐍 🇮🇷
Même sur le compte officiel de Khamenei, une énième menace directe contre les porte-avions américains. https://t.co/koFTlR3ZEu pic.twitter.com/eXmOpVdAoJ

— Beau Gosse Prétentieux_Backup (@BoGossPrebackup) February 18, 2026


جنیوا میں مذاکرات، میدان میں سختی
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تلخ بیان بازی ایسے وقت جاری ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے جنیوا میں جوہری پروگرام کے حوالے سے دوسرے  دور کے مذاکرات ہوئے ہیں ۔ ایران نے مذاکرات کو مثبت بتایا ہے، جبکہ امریکی قیادت کا کہنا ہے کہ کئی اہم مسائل پر اب بھی اختلافات قائم ہیں۔ ماہرین کے مطابق، دونوں ممالک ایک ساتھ مذاکرات اور عسکری دباؤ کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مڈل ایسٹ ایک بار پھر بڑے تصادم کے خدشے کے سائے میں آ گیا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top