Latest News

جوہری مسئلے پر ایران اور امریکہ آمنے سامنے، عمان میں مذاکرات سے قبل ٹرمپ کی خامنہ ای کو سخت وارننگ

جوہری مسئلے پر ایران اور امریکہ آمنے سامنے، عمان میں مذاکرات سے قبل ٹرمپ کی خامنہ ای کو سخت وارننگ

انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات جمعہ کو عمان میں ہوں گے۔ ایران میں گزشتہ ماہ ملک گیر احتجاج کے خلاف کی گئی پرتشدد کارروائی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اب بھی جاری ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ کے بدھ کو کئے گئے اس اعلان سے پہلے ایسے اشارے مل رہے تھے کہ مذاکرات کے طریقہ کار اور موضوعات میں تبدیلی کی وجہ سے مجوزہ بات چیت میں رکاوٹ آ رہی ہے۔ اسی دوران امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مذاکرات سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو سخت وارننگ دی۔
ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں خامنہ ای کے بارے میں کہا کہ مجھے لگتا ہے انہیں بہت فکر مند ہونا چاہیے۔ اس سے پہلے بدھ کو ایک علاقائی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ایران ترکی کی جانب سے تجویز کردہ ملاقات سے مختلف نوعیت کی ملاقات چاہتا ہے۔ یہ ملاقات خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے پر مرکوز ہوگی، جس میں صرف ایران اور امریکہ کی شرکت ہوگی۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ ترکی کے بجائے عمان میں ایران کے ساتھ اعلی سطحی مذاکرات کرے گا۔
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایرانی حکام کی جانب سے بات چیت کے دائرے کو محدود کرنے اور مذاکرات کے مقام کو تبدیل کرنے کی بات کے درمیان عرب دنیا کے کئی رہنماؤں نے بدھ کو ٹرمپ انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ مذاکرات سے پیچھے نہ ہٹے۔ عہدیدار نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو اب بھی مذاکرات کی کامیابی کے بارے میں شک ہے، لیکن خطے کے اتحادیوں کے احترام میں اس نے منصوبوں میں تبدیلی کے ساتھ آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایران میں مظاہرین کے خلاف کارروائی کے جواب میں امریکہ کی جانب سے طاقت کے استعمال کے اشارے دینے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی۔ ٹرمپ ایران پر اس کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے ایک معاہدے پر رضامندی کا دباؤ بھی ڈال رہے ہیں۔ امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ کو جوہری مسئلے کے علاوہ کئی دیگر امور پر بھی بات چیت ہونے کی امید ہے۔
 



Comments


Scroll to Top