نیشنل ڈیسک: راجیہ سبھا میں لیڈر اپوزیشن ملک ارجن کھڑگے نے جمعرات کو کہا کہ حکمران جماعت نے پنڈت جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی کی توہین کی اور اپوزیشن کو ایوان میں بولنے نہیں دیا، اس لیے وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب کے وقت اپوزیشن جماعتوں نے ایوان بالا سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ وزیر اعظم مودی نے راجیہ سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریہ کے تجویز پر ہونے والی بحث کا جواب دیا۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کے اراکین ایوان سے باہر چلے گئے۔
کھڑگے نے پارلیمنٹ کمپلیکس میں صحافیوں سے کہا، "آج راجیہ سبھا میں وزیر اعظم نریندر مودی، محترم صدر کے خطاب پر بحث کا جواب دینے آئے تھے۔ ہم انہیں سننا چاہتے تھے، لیکن ہم چار دن سے دیکھ رہے ہیں کہ لوک سبھا میں لیڈر اپوزیشن راہل کو بولنے نہیں دیا جا رہا ہے۔ا ن کا کہنا تھا کہ ہم پارلیمنٹ میں جمہوریت، سماجی انصاف، نوجوانوں کے لیے روزگار اور ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات پر اپنی بات رکھنا چاہتے تھے۔ ہم سبھی اپوزیشن جماعتوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر لوک سبھا میں لیڈر اپوزیشن کو بولنے دیا گیا تو ہم وزیر اعظم کی بات ضرور سنیں گے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکمران جماعت نے طے کر لیا ہے کہ دونوں ایوانوں میں لیڈر اپوزیشن کو بولنے نہیں دینا ہے۔
کھڑگے نے کہا کہ اگر میری بات سنی جاتی تو رکاوٹ ختم ہو سکتی تھی، لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ کانگریس کے صدر نے کہا کہ مودی حکومت ہمارے رہنماؤں کی توہین کرتی ہے اور اپوزیشن کو اپنی بات رکھنے نہیں دیتی، اس لیے ہم نے اس کی مذمت کی اور ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ جن عظیم رہنماؤں نے ملک کے لیے قربانیاں دی اور ملک کو آزادی دلائی، ان کے بارے میں ایک رکن پارلیمنٹ نے نازیبا الفاظ کہے اور پوری حکمران جماعت خاموش رہی۔ کھڑگے نے کہا، "پنڈت نہرو جی نے جدید بھارت بنایا تو اندرا گاندھی جی ملک میں بیداری لائی۔ ایسے لوگوں کو ایوان میں برا بھلا کہا جاتا ہے، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔