واشنگٹن: امریکہ نے بھارتی شہریوں کے لیے ویزا کے عمل میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ نئے قواعد کے تحت اب بھارتی درخواست دہندگان اسٹوڈنٹ (F-1)، وزیٹر (B-1/B-2) اور ورک ویزا (H-1B سمیت دیگر) کے لیے تیسرے ممالک سے ویزا انٹرویو نہیں دے سکیں گے۔ تمام ویزا انٹرویو صرف بھارت میں ہی کرائے جائیں گے۔ اب تک بڑی تعداد میں بھارتی درخواست دہندگان لمبی انتظار سے بچنے کے لیے دبئی، سنگاپور، تھائی لینڈ یا دیگر ممالک سے امریکی ویزا انٹرویو دے رہے تھے۔ اس فیصلے کے بعد یہ اختیار مکمل طور پر بند ہو گیا ہے۔
https://www.instagram.com/p/DTHsUA8kY5m/?utm_source=ig_web_button_share_sheet
بھارتی شہریوں پر کیا اثر پڑے گا؟
ماہرین کے مطابق، یہ اقدام ویزا کے عمل کو زیادہ مرکزیت دینے اور سخت بنانے، درخواست دہندگان کی بہتر جانچ (verification) کرنے، اور قواعد کے غلط استعمال کو روکنے کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے۔ بھارت میں موجود امریکی سفارت خانوں پر اپائنٹمنٹ کا دباو¿ بڑھے گا، ویزا انٹرویو کے انتظار کی مدت لمبی ہو سکتی ہے۔ طلبہ کی تعلیمی منصوبے اور پروفیشنلز کی نوکری شروع کرنے کی تاریخ متاثر ہو سکتی ہے۔ مسافروں کو پہلے سے بہتر منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔
کس پر سب سے زیادہ اثر پڑے گا؟
* امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا منصوبہ بنانے والے طلبہ
* H-1B اور دیگر ورک ویزا ہولڈر
* بزنس اور ٹورسٹ ویزا کے درخواست دہندگان، وہ لوگ جو پہلے تیسرے ملک سے انٹرویو دے کر جلد ویزا حاصل کرتے تھے۔
کوئی چھوٹ نہیں
فی الحال کسی بھی قسم کی سرکاری چھوٹ یا استثناء کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک بھارت میں اپائنٹمنٹ کی صلاحیت نہیں بڑھائی جاتی، تب تک یہ قواعد بھارتی درخواست دہندگان کے لیے چیلنج بنے رہیں گے۔ امریکہ جانے کا منصوبہ بنانے والے بھارتیوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ ویزا سلاٹ بہت پہلے ب±ک کریں، دستاویزات مکمل تیاری کے ساتھ رکھیں، اور سفر یا تعلیم کے شیڈول کا تعین کرتے وقت ممکنہ تاخیر کو مدنظر رکھیں۔