واشنگٹن: وینزویلا کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع کوششوں کے تحت امریکی فوجی دستوں نے منگل کے روز جنوبی امریکی ملک وینزویلا سے منسلک ساتویں تیل بردار جہاز پر چڑھ کر اس پر قبضہ کر لیا۔ امریکی سدرن کمانڈ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکی فورسز نے جہاز سگیٹا کو بغیر کسی مزاحمت کے تحویل میں لے لیا اور یہ ٹینکر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے کیریبین خطے میں پابندی عائد کیے گئے ممنوعہ جہازوں سے متعلق حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرگرم تھا۔ فوجی کمانڈ نے یہ نہیں بتایا کہ آیا امریکی کوسٹ گارڈ نے اس ٹینکر کو اپنی تحویل میں لیا ہے یا نہیں، جیسا کہ اس سے پہلے جہازوں کی ضبطی کے معاملات میں ہوتا رہا ہے۔
مزید معلومات طلب کیے جانے پر پینٹاگون اور سدرن کمانڈ دونوں نے کہا کہ اس معاملے میں ان کے پاس کوئی اضافی معلومات نہیں ہیں۔ ساگیٹا لائبیریا کے پرچم تلے رجسٹرڈ ٹینکر ہے اور اس کی رجسٹریشن کے مطابق یہ ہانگ کانگ کی ایک کمپنی کی ملکیت اور انتظام میں ہے۔ جہاز نے آخری بار دو ماہ سے زیادہ عرصہ پہلے شمالی یورپ کے بالٹک سمندر سے روانگی کے وقت اپنی لوکیشن بھیجی تھی۔ امریکی محکمہ خزانہ نے اس ٹینکر پر 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے سے متعلق ایک سرکاری حکم کے تحت پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی سدرن کمانڈ کی پوسٹ میں اشارہ دیا گیا کہ جہاز نے وینزویلا سے تیل حاصل کیا تھا۔
پوسٹ میں کہا گیا کہ ٹینکر کی ضبطی اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وینزویلا سے باہر جانے والا تیل صرف وہی ہوگا جو مناسب رابطے کے ساتھ اور قانونی طریقے سے بھیجا جائے۔ فوجی کمانڈ نے سمندر میں تیرتے ہوئے سگیٹا جہاز کی فضائی ویڈیو جاری کی، لیکن پہلے کی ویڈیوز کے برعکس اس کلپ میں امریکی فوج کو ہیلی کاپٹروں میں اس کی طرف اڑتے ہوئے یا جہاز کے ڈیک پر اترتے ہوئے نہیں دکھایا گیا۔ تین جنوری کی رات ایک اچانک آپریشن میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا کے تیل کی پیداوار، ریفائننگ اور عالمی ترسیل پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ ٹینکروں کی ضبطی کو مالی وسائل جمع کرنے کا ایک طریقہ سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ وینزویلا کی تباہ حال تیل کی صنعت کو دوبارہ کھڑا کرنے اور اس کی معیشت کو درست سمت میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تقریبا دو ہفتے قبل ٹرمپ نے تیل کمپنیوں کے عہدیداروں سے ملاقات کر کے وینزویلا میں تیل کی پیداوار اور ترسیل کو درست اور بہتر بنانے کے لیے 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اپنے ہدف پر بات چیت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کو توقع ہے کہ وینزویلا کم از کم تین سے پانچ کروڑ بیرل تیل فروخت کرے گا۔