انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطیٰ میں مچی ہلچل اور عالمی تیل بحران کے درمیان امریکہ نے ہندوستان کے حوالے سے ایک بڑا یو ٹرن لیا ہے۔ جو امریکہ کل تک ہندوستان پر روس سے تیل خریدنے پر نکتہ چینی کر رہا تھا، اس نے اب خود آگے بڑھ کرہندوستان کو روسی تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی عارضی چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اس رعایت کے ساتھ امریکہ کی جو بیان بازی رہی، اس نے ہندوستان کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ دی ہے۔
ہندوستان بہت اچھے اداکار ہے امریکی وزیر کا طنز یا تعریف؟
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک کاروباری پروگرام کے دوران ہندوستان کے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی بہت اچھے اداکار ہیں۔ دراصل، ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ جب امریکہ نے ہندوستان سے روسی تیل کی خرید کم کرنے کی درخواست کی، تو ہندوستان نے تعاون کا مظاہرہ کیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان نے ہمیشہ اپنی نیشن فرسٹ (قومی مفاد)کی پالیسی کو فوقیت دی ہے۔
تیس دن کی چھوٹ کے پیچھے اصل کھیل
امریکہ کا یہ فیصلہ سخاوت نہیں، بلکہ سوچ سمجھ کر تیار کی گئی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے پیچھے تین اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو متاثر کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی تیل بازار میں سپلائی کا خوف پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ فی الحال بڑی مقدار میں روسی تیل سمندر میں جہازوں پر موجود ہے۔ اگر اسے بازار میں نہ آنے دیا گیا، تو تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ انتخابات اور جنگ کے اس ماحول میں تیل کی قیمتیں بے قابو ہو جائیں۔ اسی لیے اس نے ہندوستان کو سمندر میں موجود اس روسی تیل کو خریدنے کی اجازت دی ہے، جس پر پہلے پابندی تھی۔
تجارتی معاہدے میں چین والی غلطی کی تنبیہ
ادھر، ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ایک بڑا تجارتی معاہدہ حتمی مرحلے پر ہے۔ لیکن امریکہ یہاں بھی اپنی دھمکی سے باز نہیں آ رہا۔ امریکی ڈپٹی سیکریٹری کرسٹوفر لینڈا نے ہندوستان کو تنبیہ کی کہ وہ امریکہ کے ساتھ تجارت میں وہی غلطی نہ دہرائے جو چین نے کی تھی۔ امریکہ کی شرط واضح ہے ہندوستان روس کی بجائے امریکہ سے تیل خریدے، ورنہ اسے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کیا مجبوری میں بچھایا ریڈ کارپٹ؟
ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ فی الحال دو دھاری تلوار پر چل رہا ہے۔ ایک طرف وہ ہندوستان کو روس سے دور کرنا چاہتا ہے، تو دوسری طرف وہ جانتا ہے کہ اگر ہندوستان نے روسی تیل خریدنا مکمل طور پر بند کر دیا، تو دنیا بھر میں تیل کا ہنگامہ مچ جائے گا۔ اسی لیے 30دن کی یہ چھوٹ ایک طرح کا 'دباؤ کم کرنے والا والو' ہے تاکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی کمی نہ ہو۔
آگے کیا ہوگا؟
یہ چھوٹ صرف عارضی ہے۔ تیس دن کے بعد امریکہ دوبارہ سخت موقف اپنا سکتا ہے۔ ہندوستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے امریکہ کے تجارتی جرمانے اور روس کی سستی سپلائی کے درمیان توازن کیسے قائم کرتا ہے۔