نیو یارک: ایران سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی شخص کو امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور دیگر امریکی رہنماؤں کی قتل کی سازش رچنے کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اس سازش کا مقصد 2020 میں مارے گئے 'ایرانی قدس فورس' کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی موت کا انتقام لینا تھا۔ وفاقی جیوری نے بروکلین کی ایک عدالت میں 48 سالہ آصف رضا مرچنٹ کو قتل کے لیے سپاری دینے اور ریاست کی سرحدوں سے باہر دہشت گردی کا عمل کرنے کی کوشش کا جمعہ کو مجرم پایا۔ مرچنٹ کو عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
امریکی اٹارنی جنرل پامیلا بونڈی نے کہا کہ مرچنٹ ٹرمپ کے قتل کی سازش کے ساتھ امریکہ آیا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف نے ایک بیان میں کہا کہ مرچنٹ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کا ایک تربیت یافتہ رکن ہے اور اس نے مقدمے کے دوران قبول کیا کہ 2024 میں آئی آر جی سی نے اسے ان سیاسی قتلوں کو انجام دینے کے ارادے سے امریکہ بھیجا تھا۔ اس نے کہا کہ ممکنہ اہداف میں ٹرمپ، سابق صدر جوزف بائیڈن اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی شامل تھے اور مرچنٹ نے کہا تھا کہ اسے لگتا تھا کہ ''ہدف ٹرمپ تھے''۔
مرچنٹ اپریل 2024 میں امریکہ پہنچا تھا اور وہ جون میں نیو یارک میں مبینہ قاتلوں سے ملا تھا جو امریکی قانون نافذ کرنے والے خفیہ اہلکار تھے۔ تاہم جولائی 2024 میں ملک چھوڑنے سے پہلے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ بونڈی نے کہا کہ یہ شخص صدر ٹرمپ کو جان سے مارنے کے ارادے کے ساتھ امریکی زمین پر اتر آیا تھا لیکن اس کے بجائے اس کا سامنا امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طاقت سے ہوا۔ وفاقی تحقیقات بیورو (ایف بی آئی)کے قائم مقام معاون ڈائریکٹر جیمز بارنیکل نے کہا کہ مرچنٹ نے ایرانی حکومت کے ہدایت پر امریکی زمین پر کسی رہنما یا حکومتی اہلکار کے قتل کی سازش رچی تھی۔