واشنگٹن: وسطی مشرق میں بڑھتے فوجی تصادم کا اثر اب جنوبی ایشیا تک پہنچ گیا ہے۔ ایران کی جنگ کی آگ اب سفارتی تعلقات کو بھی جھلسا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے احکامات پر کراچی اور لاہور میں موجود امریکی سفارت خانے کے عملے کو فوری طور پر پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسے واشنگٹن کی طرف سے اسلام آباد کی حفاظتی انتظامات پر کم ہوتے اعتماد اور علاقائی غیر استحکام کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان میں امریکی مشن نے بیان جاری کر کے کہا کہ ''حفاظتی خطرات کے سبب لاہور اور کراچی میں موجود امریکی تجارتی سفارت خانوں سے غیر ہنگامی عملہ اور ان کے اہل خانہ فوری طور پر پاکستان چھوڑ دیں۔ تاہم، اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ حال ہی میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کے بعد یکم مارچ کو پاکستان میں مظاہرین نے کراچی میں امریکی سفارت خانے میں توڑ پھوڑ کے بعد آگ لگا دی تھی۔ اس تشدد میں کم از کم 10 مظاہرین ہلاک ہوئے تھے۔
دیگر ممالک میں بھی الرٹ
امریکی محکمہ خارجہ نے اسی طرح کے احکامات اردن، بحرین، عراق، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عمان اور قبرص میں بھی جاری کیے ہیں۔ یہ اقدام ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی مبینہ موت کے بعد بھڑکے ہوئے تناو کے دوران اٹھایا گیا ہے، جس کے بعد کئی ممالک میں مظاہرے تیز ہو گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ امریکہ ممکنہ علاقائی غیر استحکام کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ اس سے پاکستان میں حفاظتی انتظامات اور سفارتی سرگرمیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔