یروشلم: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کا آج چھٹا دن ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری خوفناک جنگ اب نہ صرف جانی نقصان کر رہی ہے بلکہ متعلقہ ممالک کی معیشت کو بھی بری طرح ہلا رہی ہے۔اس دوران اسرائیل کی وزارتِ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں پر موجودہ پابندیوں کے باعث اسرائیل کو ہر ہفتے تقریباً 9.4 ارب شیکل (تقریباً 3 ارب ڈالر) کا نقصان ہونے کا امکان ہے۔ہر ہفتے 3 ارب ڈالر کا یہ نقصان ظاہر کرتا ہے کہ جنگ جتنی زیادہ لمبی چلے گی خطے کی معاشی حالت اتنی ہی زیادہ سنگین ہوتی جائے گی۔
ٹائمز آف اسرائیل کی ایک رپورٹ کے مطابق وزارتِ خزانہ کے ڈائریکٹر جنرل ایلان روم نے ہوم فرنٹ کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل شائی کلیپر کو لکھے گئے ایک خط میں معاشی سرگرمیوں پر پابندیوں کو نرم کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ کاروبار اور کام کی جگہوں کو جمعرات سے مرحلہ وار طریقے سے جزوی طور پر دوبارہ کھولا جا سکے۔
اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے فوراً بعد اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) ہوم فرنٹ کمانڈ نے پورے ملک کے لیے ہدایات جاری کیں۔ان ہدایات کے تحت تمام عوامی اجتماعات، تعلیمی سرگرمیوں اور زیادہ تر کام کی جگہوں پر پابندی لگا دی گئی تھی جبکہ صرف ضروری کاروباروں کو ہی کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
یہ ہدایات کام پر سفر کو محدود کرتی ہیں، گھر سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا حکم دیتی ہیں۔پیر کے روز تصادم کی صورتحال کے ایک نئے جائزے کے بعد ہوم فرنٹ کمانڈ نے ان ملک گیر پابندیوں کو ہفتہ کی رات تک بڑھا دیا۔روم نے کلیپر سے موجودہ ریڈ الرٹ سطح سے اورنج الرٹ سطح تک پابندیوں کو اپ گریڈ کرنے کی درخواست کی جہاں محدود معاشی سرگرمیوں کی اجازت دی جا سکتی ہے۔اگر اورنج الرٹ سطح نافذ کی جاتی ہے تو کام کی جگہوں اور معاشی سرگرمیوں کو محدود بنیاد پر کام کرنے کی اجازت دی جائے گی بشرطیکہ وہ محفوظ پناہ گاہوں کے قریب ہوں۔
تاہم اس سطح پر بھی تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔روم نے زور دے کر کہا کہ پابندیوں والی سرگرمیوں کے تحت معیشت کو ہفتہ وار نقصان تقریباً 4.5 ارب شیکل (تقریباً 1.5 ارب ڈالر) ہونے کا اندازہ ہے جو موجودہ ریڈ الرٹ سطح کے تحت ہونے والے نقصان کے آدھے سے بھی کم ہے۔