National News

نیپال انتخابات 2026: نیپال میں ‘جنریشن زیڈ’ تحریک کے بعد پہلی بڑی انتخابی آزمائش! سخت حفاظتی اقدامات کے درمیان ووٹنگ جاری، نوجوانوں میں خاص جوش (ویڈیو)

نیپال انتخابات 2026: نیپال میں ‘جنریشن زیڈ’ تحریک کے بعد پہلی بڑی انتخابی آزمائش! سخت حفاظتی اقدامات کے درمیان ووٹنگ جاری، نوجوانوں میں خاص جوش (ویڈیو)

کٹھمنڈو: نیپال میں گزشتہ سال ہونے والے ‘جنریشن زیڈ’ نوجوانوں کے بڑے احتجاجی مظاہروں کے بعد جمعرات کو ملک میں پہلے عام انتخابات کے لیے ووٹنگ شروع ہو گئی۔ پورے ملک میں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان صبح سات بجے ووٹنگ شروع ہوئی، جو شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ نیپال کے الیکشن کمیشن کے مطابق اس انتخاب میں 1.89 کروڑ سے زیادہ ووٹر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ یہ انتخاب 275 رکنی نمائندگی اسمبلی کے قیام کے لیے ہو رہا ہے۔

  • 165 نشستوں کے لیے براہِ راست ووٹنگ ہو ئی ہے۔
  • 110 نشستوں کا فیصلہ تناسبی نمائندگی کے نظام سے ہوگا۔
  • براہِ راست انتخاب کے لیے 3,406 امیدوار میدان میں ہیں۔
  • جبکہ تناسبی نظام کے تحت 3,135 امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔
  • کل ملا کر 65 سیاسی جماعتیں اس انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں۔

 

پورے ملک میں پرامن ماحول میں ووٹنگ شروع ہوئی۔
الیکشن کمیشن کے ترجمان ناران پرساد بھٹڑائی نے بتایا کہ جنوبی میدانی علاقوں، پہاڑی علاقوں اور کوہستانی علاقوں سمیت تمام انتخابی حلقوں میں صبح سات بجے ووٹنگ شروع ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ووٹنگ پرامن ماحول میں ہوئی۔ الیکشن کمیشن نے پورے ملک میں 10,967 پولنگ بوتھ اور 23,112 پولنگ مراکز قائم کیے تھے۔ ووٹنگ ختم ہونے کے بعد بیلٹ باکسز کو جمع کر کے فوری طور پر ووٹ گنتی شروع کر دی جائے گی۔

 


انتخاب کے لیے تین دن کی چھٹی۔
حکومت نے انتخابات کو کامیابی سے مکمل کروانے کے لیے بدھ سے تین دن کی عوامی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ نیپال میں گزشتہ سال 8 اور 9 ستمبر کو بڑی تعداد میں نوجوانوں نے بدعنوانی، خاندانی سفارش اور سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ ان مظاہروں میں بنیادی طور پر ‘جنریشن زیڈ’ نسل (1997-2012 کے درمیان پیدا ہونے والے نوجوان) شامل تھے۔ ان احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے سیاسی بحران پیدا ہو گیا اور سابق وزیرِاعظم کے پی شرما اولی کی حکومت گر گئی۔ اس کے بعد نیپال کے صدر رام چندر پاو¿ڈل نے 12 ستمبر کو نمائندگی اسمبلی تحلیل کر دی اور سشیلا کارکی کو قائم مقام وزیرِاعظم مقرر کیا۔



Comments


Scroll to Top