انٹرنیشنل ڈیسک: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری خونی تنازع نے پوری دنیا کو ایسی کگار پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اب امن کی باتیں کم اور جوہری ہتھیاروں کی گفتگو زیادہ ہو رہی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں ایران پر ہونے والے دو بڑے حملوں نے مشرق وسطیٰ کی آگ کو پوری دنیا تک پھیلا دیا ہے۔ پانچ ہفتوں سے جاری اس فوجی کارروائی کا مقصد اگرچہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا اور وہاں اقتدار میں تبدیلی لانا تھا لیکن اس کے نتائج بالکل الٹ دکھائی دے رہے ہیں۔ اس جنگ نے دنیا بھر کے ان ممالک کو خوفزدہ کر دیا ہے جن کے پاس اپنی حفاظت کے لیے جوہری ڈھال نہیں ہے۔
اب حالات یہ ہیں کہ یورپ سے لے کر مشرقی ایشیا تک کئی ممالک اپنی پرانی پالیسیوں کو ترک کر رہے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ کی بدلتی اور غیر یقینی پالیسیوں نے اس کے اتحادیوں کے دلوں میں یہ خوف پیدا کر دیا ہے کہ مشکل وقت میں امریکہ ان کا ساتھ چھوڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کل تک امریکہ پر بھروسا کرنے والے جاپان جنوبی کوریا جرمنی اور پولینڈ جیسے ممالک اب خود اپنا جوہری بم بنانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
یورپ میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ جرمن چانسلر اولاف شولز کے بعد اقتدار سنبھالنے والے فریڈرک مرز اب فرانس کے ساتھ مل کر جوہری تحفظ پر خفیہ بات چیت کر رہے ہیں۔ پولینڈ بھی اب اپنی حفاظت کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنا نہیں چاہتا۔ جبکہ ایشیا میں جاپان جیسا ملک جو جوہری حملے کا درد جھیل چکا ہے اب چین روس اور شمالی کوریا کے خطرے کو دیکھتے ہوئے جوہری ہتھیار رکھنے کی حمایت کر رہا ہے۔ جنوبی کوریا کے75 فیصد لوگ یہ مانتے ہیں کہ ان کے پاس اپنا ایٹم بم ہونا چاہیے۔
مشرق وسطیٰ میں بھی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ سعودی عرب نے صاف کہہ دیا ہے کہ اگر ایران جوہری طاقت بنتا ہے تو وہ بھی پیچھے نہیں رہے گا۔ حال ہی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے نے اس خوف کو اور بڑھا دیا ہے جس میں پاکستان نے ضرورت پڑنے پر اپنے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی بات کہی ہے۔ ترکی بھی اب اس دوڑ میں شامل ہونے کے اشارے دے رہا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یوکرین اور لیبیا جیسے ممالک کا انجام دیکھنے کے بعد دنیا کو سمجھ آ گیا ہے کہ جوہری ہتھیار کے بغیر کسی بھی ملک کی خودمختاری محفوظ نہیں ہے۔ جہاں جوہری طاقت رکھنے والے شمالی کوریا پر کوئی ہاتھ ڈالنے سے ڈرتا ہے وہاں بغیر جوہری ڈھال والے ممالک کو آسانی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ آج دنیا میں نو ممالک کے پاس تقریباً بارہ ہزار سے زیادہ جوہری وارہیڈ موجود ہیں جو پوری زمین کو کئی بار تباہ کرنے کے لیے کافی ہیں۔
قیامت کی گھڑی اب آدھی رات سے صرف پچاسی سیکنڈ دور ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ انسانیت اپنے بدترین دور کے قریب ہے۔ ایران اب جوہری عدم پھیلاو معاہدے سے باہر نکلنے کی دھمکی دے رہا ہے جس سے دنیا بھر میں جوہری ہتھیاروں کو قابو میں رکھنے والا نظام پوری طرح کمزور ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر ایران کی جنگ نے ایک ایسے جن کو بوتل سے باہر نکال دیا ہے جسے واپس اندر کرنا اب ناممکن لگ رہا ہے۔