انٹرنیشنل ڈیسک: سویڈن سے ایک نہایت چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شخص پر اپنی ہی بیوی کا طویل عرصے تک جنسی استحصال کرنے اور اسے درجنوں مردوں کے ساتھ تعلقات بنانے پر مجبور کرنے کے سنگین الزامات لگے ہیں۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے پیسوں کے لالچ میں اپنی بیوی کو تقریباً 120 مردوں کے پاس بھیجا۔
خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس معاملے نے پورے سویڈن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کا موازنہ فرانس کے مشہور جیزیل پیلیکوٹ مقدمے سے کیا جا رہا ہے جس میں ملزم شوہر کو 2024 میں 20 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔
بیوی کو زبردستی جنسی افعال کے لیے مجبور کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق شمالی سویڈن میں رہنے والی خاتون نے اکتوبر میں اپنے 62 سالہ شوہر کے خلاف شکایت درج کرائی تھی جس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ الزام ہے کہ وہ برسوں سے اپنی بیوی کو زبردستی جنسی عمل کرنے اور دوسرے مردوں کے سامنے پیش ہونے پر مجبور کر رہا تھا۔
استغاثہ کے مطابق ملزم نہ صرف گاہک تلاش کرتا تھا بلکہ آن لائن اشتہار تیار کرتا تھا ملاقاتیں طے کرتا تھا اور زیادہ پیسے کمانے کے لیے خاتون پر دباو ڈالتا تھا۔ اس پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے خاتون کو آن لائن جنسی ویڈیو بنانے پر مجبور کیا۔
نشے کی لت کا فائدہ اٹھایا اور تشدد اور دھمکیاں بھی دیں۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ ملزم نے خاتون کی کمزور حالت اور اس کی نشے کی لت کا فائدہ اٹھایا۔ وہ اسے منشیات فراہم کرتا تھا اور مخالفت کرنے پر دھمکیاں دیتا تھا اور تشدد کرتا تھا۔ سرکاری وکیل ایڈا اینرسٹیڈ نے اس پورے معاملے کو بے رحمانہ استحصال قرار دیا ہے۔ ملزم پر سنگین دلالی کے ساتھ ساتھ8 مرتبہ زیادتی اور کئی مرتبہ زیادتی کی کوشش کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ تاہم اس نے تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔
انکار کرنے پر بھی ظلم نہیں رکا۔
رپورٹ کے مطابق خاتون نے کچھ حالات اور کچھ لوگوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے سے صاف انکار کیا تھا۔ اس کے باوجود ملزم نے اس کی مرضی کے خلاف دباو¿ ڈالا۔ اسی بنیاد پر اس پر کئی مرتبہ زیادتی اور زیادتی کی کوشش کے الزامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ یہ واقعات اگست2022 سے اکتوبر2025 کے درمیان کے بتائے جا رہے ہیں۔ مقدمے کی سماعت 13اپریل سے شروع ہونے والی ہے۔
120 افراد کی شناخت اور کئی کے خلاف مقدمہ درج۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے جنسی خدمات خریدنے کے شبے میں تقریباً 120 مردوں کی شناخت کی ہے جن میں سے 26 پر الزامات طے کیے جا چکے ہیں جبکہ دیگر کی جانچ جاری ہے۔
سویڈن کا قانون کیا کہتا ہے۔
سویڈن کے قانون کے تحت جنسی خدمات خریدنا غیر قانونی ہے جبکہ انہیں فروخت کرنا جرم نہیں ہے۔ تاہم اس طرح کی سرگرمیوں میں مدد کرنا یا دلالی کرنا غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔ متاثرہ خاتون کی وکیل سلویہ انگولفسڈوٹیر نے اس معاملے کو سنگین اور نہایت گھناو¿نا جرم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی مو¿کلہ کو اب انصاف ملنے کی امید ہے۔