Latest News

برلن: شدید سردی میں 45 ہزار گھروں کی بجلی گل، 8 جنوری تک لوگ اندھیرے میں رہیں گے

برلن: شدید سردی میں 45 ہزار گھروں کی بجلی گل، 8 جنوری تک لوگ اندھیرے میں رہیں گے

برلن: جرمنی کے دارالحکومت برلن میں شدید سردی اور برفباری کے درمیان بجلی کا ایک بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ جنوب مغربی برلن میں ایک کیبل برج پر لگنے والی آگ کے باعث تقریباً 45 ہزار گھروں اور 2 ہزار 200 کاروباری اداروں کی بجلی گل ہو گئی ہے۔ مقامی پولیس اس واقعے کو مشتبہ “آرسن” یعنی جان بوجھ کر لگائی گئی آگ کے حملے کے طور پر دیکھ رہی ہے اور معاملے کی سنجیدگی سے جانچ کی جا رہی ہے۔
کون سے علاقے متاثر ہوئے۔
یہ آگ ہفتے کی علی الصبح ٹیلٹو نہر پر واقع ایک ایسے پل پر لگی تھی جہاں سے ہائی وولٹیج کیبلیں گزرتی ہیں، جس سے بجلی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس کے نتیجے میں نکولاسی، زیہلنڈورف، وانزی اور لِخٹر فیلڈ جیسے رہائشی علاقوں میں بجلی کی سپلائی مکمل طور پر ٹھپ ہو گئی ہے۔ گرڈ آپریٹر نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ بجلی کی بندش کے باعث موبائل فون نیٹ ورک اور لینڈ لائن سروسز میں بھی خلل پڑ سکتا ہے۔
جمعرات تک اندھیرا رہ سکتا ہے۔
شہر کے گرڈ آپریٹر اسٹرومنیتس برلن نے واضح کیا ہے کہ بجلی کی مکمل بحالی میں خاصا وقت لگے گا کیونکہ پرانی کیبلیں بری طرح جل چکی ہیں اور نئی ہائی وولٹیج کیبلیں بچھانی پڑیں گی۔ کمپنی کے مطابق تمام صارفین کی بجلی کی فراہمی جمعرات کی دوپہر تک یعنی 8 جنوری 2026 تک مکمل طور پر بحال ہونے کی امید ہے۔
سلامتی اور صحت سے متعلق خدشات۔
برلن میں اس وقت برفباری ہو رہی ہے جس کے باعث بجلی نہ ہونے کی صورت میں گھروں میں ہیٹنگ کی سہولت بند ہو گئی ہے۔ حکام نے متاثرہ افراد اور کاروباروں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے کیونکہ شدید سردی میں ضروری خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ فی الحال فوجداری تفتیش کار موقع پر موجود ہیں اور پورے علاقے میں بڑے پیمانے پر سکیورٹی اور ایمرجنسی آپریشن جاری ہے۔



Comments


Scroll to Top