تہران:امریکی افواج کے ساتھ ممکنہ زمینی تصادم کی صورت میں ایران نے 10 لاکھ سے زیادہ شہریوں کو متحرک کر دیا ہے یہ اطلاع مہر خبر رساں ایجنسی نے ایک ذریعے کے حوالے سے جمعہ کے روز دی وال اسٹریٹ جرنل کے نامہ نگار الیکس وارڈ نے بدھ کے روز کئی امریکی اراکینِ کانگریس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکی فوج کے زمینی آپریشن کے خلاف مبینہ طور پر پہلے ہی منصوبہ بندی کر لی ہے اور یہ جلد شروع ہو سکتا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران میں کئی مقامات پر حملے کیے، جس سے بھاری نقصان ہوا اور شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔
ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی علاقوں اور مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ابتدا میں دعویٰ کیا کہ ان کا "پری ایمپٹو" (پیشگی دفاعی) حملہ ایران کے جوہری پروگرام سے پیدا ہونے والے مبینہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری تھا، لیکن جلد ہی انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا کہ وہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای فوجی مہم کے پہلے دن ہی شہید ہو گئے، جس کے بعد اسلامی جمہوریہ نے 40 دن کے سوگ کا اعلان کیا۔