نئی دہلی:ہندوستانی روپیہ اپنی گراوٹ کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے جمعرات کو امریکی ڈالر کے مقابلے 93.35 کی نئی تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، جو 93 کے نشان کو عبور کرنے کے بعد ریکارڈ درج ہوا ملکی کرنسی نے اس ہفتے کے آغاز میں ہی کمزوری کے آثار دکھائے تھے، جب یہ 92 کے نشان سے نیچے گئی، اور بعد میں مزید نقصان کے باعث موجودہ تاریخی سطح پر پہنچ گئی۔ یہ مسلسل گراوٹ بیرونی دباو اور نازک مارکیٹ جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔
مارکیٹ مبصرین کے مطابق اس تیز گراوٹ کی بنیادی وجہ عالمی خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں، جو مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے باعث ہیں۔ زیادہ تیل کی قیمتیں عام طور پرہندوستان کے کرنٹ اکاونٹ خسارے کو بڑھا دیتی ہیں، جس سے امریکی ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور روپے پر دباو بڑھتا ہے۔
اس کے علاوہ عالمی منڈیوں میں مضبوط ڈالر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے مسلسل انخلا نے بھی ملکی کرنسی کو مزید کمزور کیا ہے۔ ان عوامل کے مجموعے نے روپے کو مسلسل دباو میں رکھا ہے، جس سے مہنگائی اور درآمدی اخراجات پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔کرنسی تاجروں نے اشارہ دیا ہے کہ جب تک خام تیل کی قیمتوں میں استحکام یا جغرافیائی خطرات میں کمی نہیں آتی، روپے کو قریبی مدت میں اتار چڑھاوکا سامنا رہے گا۔