National News

صحت خدمات کو مزید قابل رسائی بنانے کی طرف اہم پیش رفت ہوئی ہے: اقتصادی سروے

صحت خدمات کو مزید قابل رسائی بنانے کی طرف اہم پیش رفت ہوئی ہے: اقتصادی سروے

نئی دہلی: جمعرات کو پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے مالی سال 2025-26 کے اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ ملک نے صحت کے شعبے میں عوامی سرمایہ کاری کے ذریعے بہتر اور کم لاگت سہولیات فراہم کر کے صحت کی خدمات کو زیادہ قابلِ رسائی بنانے کی سمت نمایاں پیش رفت کی ہے وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اقتصادی سروے 2025-26 میں کہا ہے کہ صحت مند آبادی بہتر مستقبل کی بنیادی بنیاد ہے۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ یہ عوامی سرمایہ کاری حفاظتی اور روک تھام پر مبنی نگہداشت، غذائیت اور صحت بیمہ نظام کو زیادہ قابلِ رسائی بنانے کے مقصد سے کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں شیر خوار اور زچگی سے متعلق اموات کی شرح میں کمی آئی ہے، آفاقی ٹیکہ کاری کے دائرۂ کار میں توسیع کی گئی ہے اور بنیادی صحت خدمات تک رسائی کو بہتر بنایا گیا ہے۔ قومی صحت مشن، آیوشمان بھارت اور مختلف بیماریوں کے کنٹرول سے متعلق پروگراموں جیسی پہل نے اس پیش رفت کو رفتار دی ہے۔ سروے میں انسانی سرمایہ اور معاشی پیداوار کو مضبوط بنانے کے لیے عوامی صحت کی بہتری کی اہمیت پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔
پارلیمنٹ میں پیش اقتصادی سروے میں اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ 1990 کے بعد سے ملک میں زچگی کے دوران اموات کی شرح میں 86 فیصد کمی درج کی گئی ہے، جو عالمی اوسط 48 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی شرح میں 78 فیصد کمی حاصل ہوئی ہے جبکہ 1990 سے 2023 کے دوران عالمی سطح پر یہ کمی 54 فیصد رہی۔ اس کے علاوہ نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح میں بھی 70 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح میں 37 فیصد سے زیادہ کمی درج کی گئی ہے جو 2013 میں فی ہزار زندہ پیدائش پر 40 سے گھٹ کر 2023 میں 25 رہ گئی ہے۔ بہتر صحت خدمات میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اختراعات کے ذریعے شفافیت میں اضافہ کیا گیا ہے، نظام کی تقسیم کو کم کیا گیا ہے اور صحت خدمات تک رسائی بڑھانے والی مربوط صحت اور بیمہ نظام تشکیل دیے گئے ہیں۔
 



Comments


Scroll to Top