نئی دہلی: ایک نچلی عدالت نے تنازعات میں گھرے الفلّاح یونیورسٹی کے چیئرمین جواد احمد صدیقی کو مبینہ دھوکہ دہی اور مالی بدعنوانی کے معاملے میں چار دن کے لیے پولیس حراست میں بھیج دیا ہے صدیقی کو دہلی کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں مزید تفتیش کے لیے چار دن کے پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ یہ کارروائی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی جانب سے درج کرائی گئی باضابطہ شکایات کے بعد شروع ہوئی۔ اس سے قبل دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا تھا۔
پولیس افسران کے مطابق کرائم برانچ نے یو جی سی کی شکایات کی بنیاد پر صدیقی کے خلاف دو الگ الگ ایف آئی آر درج کی تھیں۔ ان میں صدیقی پر دستاویزات میں جعلسازی اور مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ صدیقی کی گرفتاری ایک بڑی جانچ کا حصہ ہے اور پوچھ گچھ کے بعد اس معاملے میں مزید اہم انکشافات ہونے کی امید ہے۔
واضح رہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بھی ادارے کی سرگرمیوں کی جانچ کر چکا ہے، جس سے یونیورسٹی انتظامیہ پر دباو پہلے ہی کافی بڑھ گیا تھا۔ فی الحال پولیس ان مالی لین دین اور دستاویزات کی جانچ کر رہی ہے جن کی بنیاد پر دھوکہ دہی کا الزام ہے۔