انٹرنیشنل ڈیسک: مشرقِ وسطی میں حالات تیزی سے کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن کے بندرگاہی شہر مکالا پر شدید فضائی حملہ کیا ہے۔ حیران کن بات یہ رہی کہ اس کارروائی کا ہدف ایران نواز حوثی باغی نہیں تھے بلکہ مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے جڑی اسلحے کی کھیپ تھی۔ سعودی عرب کا الزام ہے کہ متحدہ عرب امارات کی فجیرہ بندرگاہ سے آنے والے دو جہاز بغیر اجازت مکالا پہنچے، جنہوں نے اپنا ٹریکنگ نظام بند کر رکھا تھا۔ ریاض کے مطابق ان جہازوں کے ذریعے 'سدرن ٹرانزیشنل کونسل' (STC) کے علیحدگی پسندوں کے لیے اسلحہ اور بکتر بند گاڑیاں اتاری جا رہی تھیں۔ سعودی فضائیہ نے پہلے شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کی وارننگ دی اور پھر اسلحے کے ذخائر کو تباہ کر دیا۔
🇸🇦‼️ Saudi Arabia issues a 24-hour ultimatum to the UAE: “Pull your troops out of Yemen”
In response, Yemen cancels its previous military partnership with the UAE.
The UAE is being expelled from Yemen, delivering a heavy blow to the Israel-UAE axis.
Next up: Sudan. It seems… pic.twitter.com/LOt9Nptr2n
— WAR (@warsurveillance) December 30, 2025
حملے کے فوراً بعد سعودی حمایت یافتہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ سلامتی معاہدہ منسوخ کر دیا اور اماراتی فوج کو چوبیس گھنٹوں کے اندر یمن چھوڑنے کا الٹی میٹم دے دیا۔ سعودی عرب کے لیے یہ ریڈ لائن اس لیے بھی اہم ہے کہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے حالیہ ہفتوں میں تیل سے مالا مال حضرموت اور المہرہ صوبوں پر قبضہ کر لیا ہے، جو سعودی عرب اور عمان کی سرحدوں سے متصل ہیں۔ ریاض اسے اپنی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ سمجھتا ہے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہازوں میں اسلحہ نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف دستوں کے لیے گاڑیاں تھیں۔ ابوظہبی نے سعودی خودمختاری کے احترام کا اعادہ کیا اور کشیدگی کم کرنے کے اشارے دیتے ہوئے یمن سے اپنی باقی ماندہ فوج واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔
علاقائی ماہرین کے مطابق یہ تصادم صرف یمن تک محدود نہیں ہے۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تعلقات ( ابراہیم معاہدہ ) اور بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اسٹریٹجک بحری راستوں پر بڑھتی ہوئی مسابقت نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سعودی عرب ایک متحد یمن چاہتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات پر جنوبی یمن کے حامی گروہوں کی حمایت کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ کشیدگی کی خبر کے بعد خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر دو بڑے تیل پیدا کرنے والے اور اتحادی ممالک آمنے سامنے آتے ہیں تو اس کا اثر عالمی توانائی کی رسد اور علاقائی استحکام پر پڑ سکتا ہے۔