واشنگٹن: امریکہ نے پاکستان کے پشاور میں واقع اپنے قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ مشن افغانستان کی سرحد کے سب سے قریب موجود امریکی سفارتی مراکز میں سے ایک تھا اور طویل عرصے تک علاقائی سلامتی اور سفارتی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔
یہ قونصل خانہ خاص طور پر اس وقت زیادہ اہم ہو گیا تھا جب امریکہ نے 2001 میں افغانستان میں فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ اس دوران پشاور مشن رسد، علاقائی سلامتی کی نگرانی کے لئے ایک اہم مرکز کے طور پر کام کرتا رہا۔
امریکہ کی جانب سے کانگریس کو بھیجی گئی اطلاع کے مطابق مشن بند کرنے سے ہر سال تقریباً پچھتر لاکھ ڈالر کی بچت ہوگی۔ اس سے پاکستان میں امریکہ کے قومی مفادات کو آگے بڑھانے کی صلاحیت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
نوٹس کے مطابق اس قونصل خانے کو بند کرنے کے عمل پر تقریباً تیس لاکھ ڈالر خرچ ہوں گے۔ اس وقت یہاں اٹھارہ امریکی سفارت کار اور سرکاری ملازمین جبکہ اناسی مقامی ملازمین کام کر رہے ہیں۔
مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران سے جڑی جنگ کے باعث پاکستان کے کئی شہروں جیسے کراچی اور پشاور میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ سلامتی کی وجوہات کی بنا پر امریکی قونصل خانوں نے کچھ وقت کے لئے اپنا کام عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔