انٹرنیشنل ڈیسک: اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کے خلاف لڑائی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی جنگ کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ ایک پڑاؤ ہے۔ انہوں نے ایران سے افزودہ یورینیم کو ہٹانے سمیت تمام جنگی مقاصد حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
نیتن یاہو نے میڈیاکے لیے جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اگر ہم نے ایران کے خلاف آپریشن ' گیدون سوورڈ' اور 'آپریشن لائن رو' شروع نہ کیے ہوتے تو اس کے پاس بہت پہلے ہی ایٹمی ہتھیار اور ہزاروں میزائل ہوتے جن سے وہ اسرائیل کو تباہ کر سکتا تھا اور ہم سب کے وجود کو خطرے میں ڈال سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دہشت گرد حکومت کو کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ افزودہ مواد ایران سے باہر لے جایا جائے گا چاہے معاہدے کے ذریعے یا پھر دوبارہ لڑائی کے ذریعے۔ اس معاملے پر اسرائیل اور امریکہ ایک رائے ہیں۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کسی بھی وقت لڑائی میں واپس آنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انگلی 'ٹرگر' پر رکھی ہوئی ہے۔
جنگی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہنے اور امریکی دباؤ میں جنگ بندی پر رضامند ہونے کے اپوزیشن کے الزامات پر نیتن یاہو نے کہا کہ عارضی جنگ بندی اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگی میں ہوئی۔ امریکیوں نے آخری وقت میں ہمیں حیران نہیں کیا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو اب بھی کئی اہداف حاصل کرنے ہیں جن میں افزودہ یورینیم کا معاملہ شامل ہے جسے یا تو سفارتی طریقے سے یا پھر طاقت کے ذریعے ایران سے ہٹایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ تمام اہداف حاصل کرنے کی طرف ایک پڑاؤ ہے۔
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے نہ صرف ایران کے میزائلوں کو تباہ کیا بلکہ اس کی تیاری کی صلاحیت کو بھی ختم کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانیوں نے صرف وہی میزائل استعمال کیے جو ان کے پاس ذخیرے میں بچے تھے۔ نیتن یاہو نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنے کا بھی عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیروت میں بدھ کے روز حزب اللہ کے سو سے زیادہ ٹھکانوں پر کیے گئے حملوں میں شدت پسند گروہ کو بڑا نقصان پہنچایا گیا۔