Latest News

ترکمان گیٹ تشدد: ہائی کورٹ کے حکم پر چل رہا بلڈوزر، بھیڑنے پولیس کو بنایا نشانہ

ترکمان گیٹ تشدد: ہائی کورٹ کے حکم پر چل رہا بلڈوزر، بھیڑنے پولیس کو بنایا نشانہ

نیشنل ڈیسک: پرانی دہلی کے رام لیلا میدان کے قریب واقع مسجد سید فیض الٰہی کے آس پاس کے علاقے میں بدھ کی صبح سویرے شدید تناؤ دیکھا گیا۔ دہلی ہائی کورٹ کی ہدایت پر جب ایم سی ڈی کی ٹیم 39 ہزار مربع فٹ زمین سے غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے پہنچی تو مقامی لوگوں کے احتجاج نے پرتشدد شکل اختیار کر لی۔
تشدد اور پولیس کی کارروائی
جیسے ہی 17 بلڈوزر اور سکیورٹی فورسز علاقے میں پہنچیں، تقریبا 25 سے 30 افراد کی بھیڑ نے چھتوں اور تنگ گلیوں سے پتھرؤا شروع کر دیا۔ اس حملے میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ حالات پر قابو پانے کے لیے دہلی پولیس کو آنسو گیس کے گولے چھوڑنے پڑے۔ پولیس نے اب تک اس معاملے میں قریب دس افراد کو حراست میں لیا ہے اور نامعلوم فسادیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

SHOCKING. POLICE ATTACKED FOR COURT ORDERED DEMOLITION NEAR Faiz-e-Ilahi Mosque, Turkman Gate, Delhi.
Crowd gathered, raised slogans, tried breaking barricades.
Interestingly Red Fort suicide bomber Umar Nabi had visited the mosque before the delhi blast. pic.twitter.com/wTmMMxgOuv

— Rahul Shivshankar (@RShivshankar) January 7, 2026


کیا مسجد کو بھی گرایا گیا؟ 
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ مسجد کے اصل ڈھانچے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا ہے۔ کارروائی صرف ان غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کی گئی ہے جو الاٹ شدہ زمین سے باہر تھیں۔ ان میں ایک بینکوئٹ ہال اور ایک ڈسپنسری شامل ہے۔
تنازع کی جڑ
یہ معاملہ نومبر 2025  میں دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے دیے گئے اس حکم سے جڑا ہے جس میں رام لیلا میدان کے قریب موجود38940 مربع فٹ زمین کو تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا گیا تھا۔ مسجد کے پاس صرف0.195  ایکڑ کی قانونی لیز ہے۔ دہلی وقف بورڈ اور مسجد کمیٹی اس اضافی زمین کی ملکیت کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ چار جنوری کو بھی زمین کی پیمائش کی مخالفت ہوئی تھی جس کے بعد آج سخت سکیورٹی کے درمیان کارروائی کی گئی۔
 



Comments


Scroll to Top