Latest News

مشرقِ وسطیٰ جنگ میں بڑا خفیہ کھیل، شامی صدر کی جان کو خطرہ، ترکی نے برطانیہ سے کی سکیورٹی بڑھانے کی اپیل

مشرقِ وسطیٰ جنگ میں بڑا خفیہ کھیل، شامی صدر کی جان کو خطرہ، ترکی نے برطانیہ سے کی سکیورٹی بڑھانے کی اپیل

انٹرنیشنل ڈیسک: مشرق وسطی میں جاری جنگ اب صرف میزائلوں اور ہوائی حملوں تک محدود نہیں رہی ہے۔ اس کے پیچھے خفیہ ایجنسیوں کی سرگرمیاں بھی تیزی سے بڑھتی دکھائی دے رہی ہیں۔ حال ہی میں رپورٹس کے مطابق ترکی کی خفیہ ایجنسی نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن (MIT) نے برطانیہ کی خفیہ ایجنسی MI6 سے شام کے صدر احمد الشراع کی سکیورٹی بڑھانے کے لیے زیادہ کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم ترکی کی حکومت نے بعد میں اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ MIT نے MI6 سے ایسی کوئی مانگ نہیں کی ہے۔
اس معاملے کی سنجیدگی پر سابق  را(RAW ) ایجنٹ اور NSG کمانڈو لکشمن سنگھ بشٹ عرف لکی بشٹ نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ شیئر کر کے مشرق وسطی کی جنگ میں خفیہ ایجنسیوں کے بڑے کھیل کی طرف اشارہ کیا ہے۔

मिडिल ईस्ट की जंग सिर्फ मिसाइलों और बमों से नहीं लड़ी जा रही, इसके पीछे खुफिया एजेंसियों का बड़ा खेल भी चल रहा है।

तुर्की ने ब्रिटेन की खुफिया एजेंसी MI6 से कहा कि सीरिया के इदलिब इलाके में अहमद अल शरा की सुरक्षा बढ़ाई जाए।
इदलिब वही इलाका है जहाँ से सीरिया की लड़ाई सालों से चल… pic.twitter.com/7rEfu1vUGO

— Lucky Bisht (@iamluckybisht) March 6, 2026


ایدلب کیوں بین الاقوامی تنازع کا مرکز بنا
شام کا ایدلب علاقہ طویل عرصے سے تنازع کا سب سے حساس مرکز رہا ہے۔ یہی سے پچھلے کئی سالوں سے شامی سرکاری فوج، ایران کے حمایت یافتہ گروہ، باغی تنظیمیں اور کئی بین الاقوامی طاقتیں ایک دوسرے سے ٹکراتی رہی ہیں۔ ایدلب کو شامی خانہ جنگی کا سب سے پیچیدہ جنگی میدان سمجھا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں اسلامک اسٹیٹ (ISIS) نے شام میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پچھلے سال احمد الشراع پر پانچ قتل کی کوششیں کی گئیں۔ ISIS نے انہیں اپنا "سب سے بڑا دشمن" قرار دیا۔ فروری میں سکیورٹی فورسز پر کئی حملے ہوئے۔ اسی وجہ سے ان کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی تعاون کی بحث تیز ہو گئی۔ 
یہ بات قابل ذکر ہے کہ شام میں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی ملک مکمل طور پر مستحکم نہیں ہو سکا۔ تقریبا 14 سالہ خانہ جنگی نے لاکھوں لوگوں کو پناہ گزین بنا دیا، معیشت کو تباہ کیا اور دہشت گرد تنظیموں کو دوبارہ ابھرنے کا موقع دیا۔
ایران-اسرائیل-امریکہ جنگ کا بھی اثر
اسی دوران ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ نے پورے مشرق وسطی کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ حال ہی میں تہران میں بڑے ہوائی حملے ہوئے۔ ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں سے جواب دیا۔ امریکہ نے اسرائیل کو بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کیے۔
اس ٹکرا کی وجہ سے شام سمیت پورے خطے میں فوجی اور خفیہ سرگرمیاں دونوں تیز ہو گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطی میں نظر آنے والی جنگ کا ایک چھپا ہوا محاذ خفیہ ایجنسیوں کا بھی ہے۔ اگر ترکی-MI6 سے متعلق رپورٹس میں سچائی ہے تو یہ واضح اشارہ دیتا ہے کہ مشرق وسطی کا تنازع صرف فوجی ٹکرا ؤنہیں بلکہ سیاسی، خفیہ اور اسٹریٹجک سطح پر جاری کثیر سطحی جنگ بن چکا ہے۔
 



Comments


Scroll to Top