واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی کو بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے لیے دیا گیا دعوت نامہ واپس لے لیا ہے۔ یہ فیصلہ ٹرمپ نے کارنی کے اس جارحانہ مؤقف کے بعد کیا، جس میں انہوں نے درمیانی طاقت رکھنے والے ممالک سے امریکہ جیسی بڑی طاقتوں کے مقابل ایک ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل کی تھی۔ یہ بورڈ آف پیس ابتدا میں غزہ میں اسرائیل- حماس جنگ کو روکنے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا، لیکن کئی مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ یہ اقوامِ متحدہ جیسے عالمی اداروں کے متبادل کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ٹرمپ کی اس پہل کو اتحادی ممالک شبہ کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

داووس میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران کارنی نے کہا تھا کہ اگر ممالک بات چیت کی میز پر موجود نہیں ہوتے تو وہ دا ؤپر لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ درمیانی طاقت رکھنے والے ممالک کو مل کر ایک تیسرا راستہ بنانا چاہیے، تاکہ وہ بڑی طاقتوں کی مہربانی پر انحصار نہ کریں۔ کارنی کے ان بیانات پر ٹرمپ نے سخت ردِعمل دیا اور کہا کہ کینیڈا کا وجود امریکہ کی وجہ سے ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کینیڈا کو دیا گیا بورڈ آف پیس کا دعوت نامہ منسوخ کر دیا۔
تاہم کارنی نے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا اور کہا کہ کینیڈا انتشار سے بھرپور دنیا میں ایک متبادل اور جمہوری راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس دوران ٹرمپ کے بیانات پر برطانیہ سمیت کئی ممالک میں ناراضی دیکھنے میں آئی، جس سے امریکہ اور اس کے روایتی اتحادیوں کے تعلقات میں بڑھتے ہوئے تنا ؤکے اشارے مل رہے ہیں۔