واشنگٹن: دنیا کے کئی ممالک کے تنازعات حل کرنے کا دعوی کرنے والے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کی جنگ رکوانے کا ہینگ اوور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعوی کیا ہے کہ انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان فوجی تصادم کو روک کر ممکنہ ایٹمی جنگ کو ٹال دیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اب تک کئی بار ہندوستان پاکستان تنازع کو روکنے کا دعوی دہرا چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے دوسرے دورِ صدارت کے دوران وہ یہ دعوی تقریبا 80 سے 90 بار کر چکے ہیں۔
105 منٹ طویل پریس کانفرنس میں بار بار ذکر
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی مداخلت سے لاکھوں لوگوں کی جان بچی۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں نہ ہوتا تو ہندوستان اور پاکستان کے لاکھوں لوگ بے وقت مارے جاتے۔ اپنے دوسرے دورِ صدارت کا ایک سال مکمل ہونے پر منعقدہ 105 منٹ طویل پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان واقعی ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔ آٹھ طیارے گرائے گئے تھے۔ ان کے مطابق وہ ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ٹرمپ نے دعوی کیا کہ انہوں نے اپنے پہلے سال میں دنیا بھر میں ایسے آٹھ تنازعات ختم کرائے جو برسوں سے نہیں رک رہے تھے، جن میں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ، کوسووو اور سربیا، کانگو اور روانڈا اور بھارت اور پاکستان شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے ملاقات کے دوران ان سے کہا تھا کہ ٹرمپ نے ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کی جان بچائی۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور جنگ کی صورت حال انتہائی خطرناک ہو سکتی تھی۔
ٹرمپ یہ دعوی کتنی بار کر چکے ہیں
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغامات اور عوامی بیانات میں ہندوستان پاکستان تعلقات میں کشیدگی روکنے کا دعوی تقریبا 80 بار تک دوہرایا ہے۔ بعض رپورٹوں میں اس تعداد کے تقریبا 90 تک پہنچنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے، خاص طور پر ایک سال کے دوران مختلف پلیٹ فارمز پر اس دعوے کو دوہرانے کے حوالے سے۔ ٹرمپ نے یہ دعوی پہلی بار 10 مئی 2025 کو سوشل میڈیا پر کیا تھا اور اس کے بعد مسلسل کئی تقاریر، انٹرویوز اور پریس کانفرنسوں میں اسی بات کو دوہراتے رہے۔ انہوں نے یہ دعوی مختلف انٹرویوز اور پریس بریفنگز میں بار بار دوہرایا، جیسے کہ تجارتی پابندیوں کی دھمکی دے کر جنگ بندی کروانے کا دعوی۔
ہندوستان کا واضح موقف
ہندوستانی حکومت نے کئی بار واضح کیا ہے کہ اس معاہدے میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی شامل نہیں تھی۔ سرحدی تنازع براہ راست بات چیت کے ذریعے روکا گیا، جیسا کہ دونوں ممالک کے فوجی جرنیلوں کے درمیان گفتگو ہوئی۔ ٹرمپ کے دعوے کا تجزیہ اور تنقید میڈیا اور ماہرین کی جانب سے بھی کی گئی ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ بیان زیادہ تر مبالغہ آرائی یا سیاسی بیان بازی پر مبنی ہے۔