واشنگٹن: بھارت اور امریکہ کے دو طرفہ تعلقات کو لے کر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر بین الاقوامی سطح پر ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکہ کی مشہور اور بین الاقوامی سطح پر معروف گلوکارہ میری مل بین نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حمایت میں کھل کر آواز اٹھائی ہے۔ میری مل بین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر، جو پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے حوالے سے امریکی صدر کا موجودہ رویہ غلط مشورے کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ ردِعمل اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ وہ مجھے خوش کرنا چاہتے تھے۔ وزیر اعظم مودی بہت اچھے انسان ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ میں خوش نہیں ہوں۔ تجارت کے معاملے میں ہم ان پر بہت جلد ٹیرف بڑھا سکتے ہیں۔
اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے مل بین نے لکھا کہ ٹرمپ اپنے دل میں وزیر اعظم مودی کا احترام کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے بھارت کے تئیں ان کے نقطہ نظر پر انہیں غلط مشورہ دیا جا رہا ہے۔ میں صدر کے لیے دعا کر رہی ہوں۔ میری مل بین نے وزیر اعظم مودی کا مضبوطی سے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو انہیں بھارت کے اندر اپوزیشن کے ہر تبصرے کا جواب دینے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی غیر ملکی رہنما کی دھمکی یا بیان پر ردِعمل دینے کی۔ انہوں نے لکھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو امریکی صدر کے ہر بیان یا دھمکی کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیر اعظم کو صرف بھارتی عوام کو جواب دینا ہے۔ بس۔ وہ لانگ گیم ڈپلومیسی کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت کے خلاف بیان دینے والے کچھ امریکی سیاسی چہرے پورے امریکہ کی رائے کی نمائندگی نہیں کرتے۔ مل بین کے مطابق، امریکہ میں سیاسی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور دنیا بھر کے رہنما آنے والے مڈٹرم انتخابات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جن کا اثر امریکہ کی خارجہ پالیسی پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اپنے پیغام کے آخر میں میری مل بین نے وزیر اعظم مودی کی قیادت پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھارت کے بہترین مفاد میں کام کرتے رہیے۔ یہی آپ کی ذمہ داری ہے اور اسی کے لیے آپ کو منتخب کیا گیا ہے۔