انٹرنیشنل ڈیسک: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں بڑا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب تہران کے ساتھ مذاکرات کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس میں اعلی حکام کا اجلاس طلب کیا گیا، جس میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی آپشنز پر بات کی گئی۔ منگل کی صبح سوشل میڈیا پر کیے گئے ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی ہیں، جس سے صاف اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ اب سفارتی راستے سے آگے بڑھنے کے موڈ میں نہیں ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ امریکہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کر سکتا ہے۔ تاہم، ٹرمپ کے اس سخت موقف پر ان کے اپنے سیاسی حلقے میں بھی اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ ساتھی اور ریپبلکن رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی سے امریکہ ایک اور بلند خطرے والے جنگ میں پھنس سکتا ہے، جس کا اثر نہ صرف مغربی ایشیا بلکہ امریکی گھریلو سیاست پر بھی پڑے گا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران میں مداخلت کرنا ٹرمپ کی انتخابی پالیسی 'امریکہ فرسٹ ' کے خلاف جا سکتا ہے، جس کے تحت وہ بیرون ملک فوجی الجھنوں سے بچنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ جبکہ حمایتیوں کا موقف ہے کہ ایران میں بڑھتے تشدد اور مظاہرین کی ہلاکتوں پر خاموش رہنا امریکہ کے عالمی کردار کو کمزور کرے گا۔ فی الحال، وائٹ ہاؤس میں فوجی اور سکیورٹی مشیر مختلف منظرناموں پر کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں ٹرمپ انتظامیہ کا کوئی بھی فیصلہ مغربی ایشیا کی سیاست اور عالمی سکیورٹی پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔