واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ غزہ کے لیے مجوزہ 20 نکاتی امن منصوبے کا اگلا مرحلہ باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد ان کی انتظامیہ نے غزہ میں ریکارڈ سطح پر انسانی امداد پہنچائی ہے، جسے اقوام متحدہ نے بھی بے مثال قرار دیا ہے۔ٹرمپ نے بتایا کہ غزہ کے عبوری دور کے لیے ایک نئی فلسطینی تکنیکی یعنی ٹیکنوکریٹک حکومت مقرر کی گئی ہے۔اسے یشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ کا نام دیا گیا ہے، جسے امن بورڈ کے اعلیٰ نمائندے کی حمایت حاصل ہوگی۔ٹرمپ کے مطابق، یہ قیادت غزہ کے لیے پرامن مستقبل کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصر، ترکی اور قطر کے تعاون سے امریکہ حماس کے ساتھ ایک جامع غیر مسلح کرنے کا معاہدہ یقینی بنائے گا۔اس معاہدے کے تحت حماس کو تمام ہتھیار حوالے کرنے ہوں گے اور ہر سرنگ کو تباہ کرنا ہوگا۔ٹرمپ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حماس کو فوری طور پر اپنے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے، جن میں اسرائیل کو آخری لاش واپس کرنا بھی شامل ہے۔ٹرمپ نے دو ٹوک کہاغزہ کے لوگوں نے بہت دکھ سہے ہیں۔ اب طاقت کے ذریعے امن کا وقت آ گیا ہے۔
اس دوران، اقوام متحدہ کے دفتر برائے منصوبہ جاتی خدمات کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جارج مورئیرا دا سلوا نے بتایا کہ غزہ میں ملبے کی مقدار 60 ملین ٹن سے زیادہ ہو چکی ہے اور اسے ہٹانے میں سات سال سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔الجزیرہ کے مطابق، انہوں نے غزہ میں ہونے والی تباہی کو “ناقابلِ یقین” قرار دیا، جس میں گھر، اسکول، ہسپتال اور پانی اور بجلی کا ڈھانچہ مکمل طور پر متاثر ہوا ہے۔