انٹرنیشنل ڈیسک: امریکہ اور تائیوان نے جمعرات کو ایک بڑے تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا، جس کے تحت تائیوان کی اشیا پر محصولات میں کمی کی جائے گی اور اس کے بدلے تائیوان امریکہ میں 250 ارب امریکی ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کرے گا۔یہ معاہدہ ان حالیہ تجارتی سودوں میں شامل ہے جو امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیے ہیں۔اس سے پہلے انہوں نے یورپی یونین اور جاپان کے ساتھ بھی ایسے معاہدے کیے تھے۔یہ تمام معاہدے ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ سال اپریل میں تجارتی عدم توازن دور کرنے کے لیے پیش کی گئی وسیع محصولات منصوبہ بندی کے بعد کیے گئے ہیں۔
ٹرمپ نے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کے مقصد سے ایک سال کی تجارتی جنگ بندی یعنی ٹریڈ ٹروس پر بھی اتفاق کیا۔
ابتدا میں ٹرمپ نے تائیوان سے آنے والی اشیا پر 32 فیصد محصول مقرر کیا تھا، جسے بعد میں کم کر کے 20 فیصد کر دیا گیا۔نئے معاہدے کے تحت اب محصول کی شرح کو مزید کم کر کے 15 فیصد کر دیا گیا ہے جو ایشیا بحرالکاہل خطے میں امریکہ کے دیگر تجارتی شراکت داروں جیسے جاپان اور جنوبی کوریا پر عائد محصولات کے برابر ہے۔
امریکی محکمہ تجارت نے ایک بیان میں کہا کہ تائیوان کے ساتھ یہ معاہدہ ایک “اقتصادی شراکت داری” قائم کرے گا، جس کے تحت گھریلو پیداوار کو فروغ دینے کے لیے امریکہ میں کئی “عالمی معیار کے” صنعتی پارک قائم کیے جائیں گے۔محکمہ تجارت نے اسے ایک “تاریخی تجارتی معاہدہ” قرار دیا اور کہا کہ اس سے امریکہ کے سیمی کنڈکٹر شعبے کو رفتار ملے گی۔تائیوان کی حکومت نے ایک بیان میں اس معاہدے کے اہم نکات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون مزید مضبوط ہوگا۔