انٹرنیشنل ڈیسک: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے اس منصوبے پر تنقید کی ہے جس کے تحت چاغوس جزیرہ نما موریشس کو سونپا جانا ہے۔ ٹرمپ نے صاف الفاظ میں کہا کہ ' ڈئیگو گارسیا کو مت سونپئے' ۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ زمین برطانیہ سے نہیں لی جانی چاہیے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ہمارے عظیم شریک کے لیے ایک داغ ہوگا۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب منگل کو امریکہ نے باضابطہ طور پر لندن کے اس منصوبے کی حمایت کی تھی جس میں برطانوی انڈین اوشن ٹیریٹری کی خود مختاری موریشس کو سونپنے کی بات کہی گئی ہے۔
ڈئیگو گارسیا کیوں اہم ہے؟
ڈئیگو گارسیا چاغوس جزیرہ نما کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور یہاں برطانیہ اور امریکہ کی مشترکہ فوجیں تعینات ہیں۔ یہ جزیرہ بحر ہند میں اسٹریٹجک طور پر بہت اہم مقام پر واقع ہے۔ منصوبے کے مطابق، برطانیہ موریشس کو خود مختاری سونپنے کے بعد ڈئیگو گارسیا کو 99 سال کی لیز پر واپس لے گا تاکہ فوجی اڈہ فعال رہ سکے۔
لیز ممالک کے لیے اچھی نہیں
بدھ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے ٹرمپ نے لکھا کہ وہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے کہہ رہے ہیں کہ ممالک کے معاملات میں لیز اچھا انتخاب نہیں ہوتا اور 100 سال کی لیز پر جانا ایک بڑی غلطی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈئیگو گارسیا بحر ہند میں اسٹریٹجک طور پر بہت اہم ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسٹارمر پہلے کبھی نہ سنی گئی تنظیموں کے دعوؤں کی وجہ سے اس اہم جزیرے پر کنٹرول کھو رہے ہیں۔
ایران کا بھی ذکر
ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کرتا تو امریکہ کو ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے ڈئیگو گارسیا کا استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکہ اور اس کے یورپی شراکت داروں کو شک ہے کہ تہران جوہری ہتھیار تیار کرنے کی سمت میں بڑھ رہا ہے۔ تاہم ایران مسلسل ان الزامات سے انکار کرتا رہا ہے۔ ٹرمپ پہلے بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی وارننگ دے چکے ہیں۔ انہوں نے ایران پر حکومت مخالف مظاہروں کے دباؤو اور جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے سخت موقف اپنایا ہے۔
امریکہ اور موریشس مذاکرات کی تیاری
ٹرمپ کا یہ تبصرہ ایسے وقت آیاہے جب اگلے ہفتے امریکہ اور موریشس کے درمیان اس مسئلے پر بات چیت کی تجویز ہے۔ حالانکہ واشنگٹن نے باضابطہ طور پر برطانیہ کی منصوبے کی حمایت کی ہے، لیکن ٹرمپ کے تازہ بیان نے اس مسئلے پر بین الاقوامی سطح پر نئی بحث چھڑا دی ہے۔ ٹرمپ نے آخر میں کہا کہ امریکہ ہمیشہ برطانیہ کے ساتھ کھڑا رہے گا لیکن اسے 'ووکزم ' اور دیگر چیلنجز کے سامنے مضبوط رہنا ہوگا۔