انٹرنیشنل ڈیسکؒ امریکی صدر ڈونالڈ ٹڑمپ اپنے بیانات کی وجہ سے ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کے ایک چندہ جمع کرنے والے پروگرام این آر سی سی کے دوران ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی قیادت نے غیر رسمی طور پر انہیں ملک کا اگلا اعلیٰ ترین رہنما ( سپریم لیڈر)بننے کی پیشکش کی تھی جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔
مجھے ایران کا سربراہ نہیں بننا۔
ٹرمپ نے پروگرام میں مذاق کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی ایسا سربراہ مملکت نہیں ہوگا جو ایران کا سربراہ بننے کی خواہش مجھ سے کم رکھتا ہو۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بات چیت کے دوران جب انہیں یہ پیشکش دی گئی تو ان کا جواب سیدھا تھا۔ نہیں شکریہ۔ میں یہ عہدہ نہیں چاہتا۔ قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ مسلسل دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے لیے بے چین ہے جبکہ تہران سرکاری طور پر ان دعوو¿ں کو مکمل طور پر رد کرتا رہا ہے۔

ایران میں اقتدار کی تبدیلی اور علی خامنہ ای کی موت کا ذکر۔
ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب وہ ایران میں بڑی اقتدار کی تبدیلی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی آپریشن کے دوران ایران کے اعلیٰ ترین رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے مارے جانے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ خامنہ ای کی موت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈرقرار دیا گیا ہے لیکن وہ اب تک عوامی طور پر سامنے نہیں آئے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق وہ حملوں میں زخمی ہو سکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں بڑی فتح کا دعویٰ۔
ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو فوجی تباہی قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس تنازع میں بڑی کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی حکومت سمجھوتہ کرنے کے لیے بے چین ہے لیکن وہ عوامی طور پر یہ کہنے سے ڈر رہے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ یا تو ان کے اپنے لوگ انہیں مار دیں گے یا پھر ہم۔ زمینی حقیقت ٹرمپ کے دعوو¿ں سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ تہران نے اب تک امریکہ کی کسی بھی شرط کے سامنے جھکنے یا جنگ بندی کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔