National News

ٹرمپ نے تقریباً 7 ممالک سے آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لئے جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل کی

ٹرمپ نے تقریباً 7 ممالک سے آبنائے ہرمز کی حفاظت کے لئے جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل کی

انٹرنیشنل ڈیسک: امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے تقریبا ًسات ممالک سے جنگی جہاز بھیجنے کی درخواست کی ہے، تاکہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھا جا سکے۔ بہرحال، امریکہ  اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے باوجود ان کی اپیل پر ابھی تک کسی ملک نے کوئی ٹھوس عہد ظاہر نہیں کیا ہے۔
ٹرمپ نے ان ممالک کے نام بتانے سے انکار کر دیا، جو مغربی ایشیا کے خام تیل پر کافی حد تک منحصر ہیں اور جن سے امریکی انتظامیہ اس سمندری راستے کی حفاظت کے لیے ایک اتحاد بنانے کے حوالے سے بات چیت کر رہی ہے۔ اس آبنائے سے دنیا کے تقریبا پانچویں حصے کا تجارتی تیل گزرتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ  میں ان ممالک سے درخواست کر رہا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور اپنے علاقے کی حفاظت کریں کیونکہ یہ ان کا ہی علاقہ ہے۔
انہوں نے فلوریڈا سے واشنگٹن واپس جاتے وقت ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو میں یہ بھی دعوی کیا کہ یہ سمندری راستہ امریکہ کے لیے اتنا ضروری نہیں ہے، کیونکہ امریکہ کے پاس تیل تک اپنی رسائی موجود ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ چین کو تقریباً 90  فیصد تیل اسی راستے سے ملتا ہے، جبکہ امریکہ کو وہاں سے بہت کم تیل حاصل ہوتا ہے۔
حالانکہ انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ آیا چین اس اتحاد میں شامل ہوگا یا نہیں۔ اس سے پہلے ٹرمپ نے چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سے اس میں شامل ہونے کی درخواست کی تھی۔ اس دوران، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 'سی بی ایس' سے کہا کہ تہران سے ''کئی ممالک نے اپنے جہازوں کو محفوظ گزرنے دینے کے لیے رابطہ کیا ہے لیکن اس بارے میں فیصلہ ہمارے فوجی حکام کریں گے۔'
انہوں نے کہا کہ ''کئی ممالک'' کے کچھ جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی ہے، حالانکہ اس کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کیں۔ ایران نے کہا ہے کہ یہ آبنائے تمام ممالک کے لیے کھلا ہے، لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے نہیں۔ عراقچی نے یہ بھی کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ سے بات چیت کرنے کا انہیں کوئی سبب نظر نہیں آتا، کیونکہ ان کے مطابق اسرائیل اور امریکہ نے 28 فروری کو مل کر حملوں کے ساتھ یہ لڑائی شروع کی، جب ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری تھے۔
امریکہ میں چین کے سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو نے کہا کہ توانائی کی فراہمی کو مستحکم اور بلا رکاوٹ رکھنا تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے اور چین تناؤ کم کرنے کے لیے بات چیت بڑھائے گا۔ ادھر جنگ کا اثر پورے خطے میں بڑھ رہا ہے۔ 'انٹرنیشنل کمیٹی فار ریڈ کراس' کے مطابق ایران میں 1,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سینکڑوں خواتین اور بچے شامل ہیں۔
اسرائیل میں بھی ایرانی میزائل حملوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جبکہ لبنان میں ایران کے حامی حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان تنازع میں 820 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ پیر کی صبح ایران نے دوبارہ اسرائیل کی جانب میزائل داغے۔ اس سے وسطی اسرائیل اور تل ابیب کے علاقے میں کئی مقامات پر نقصان ہوا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایران کلسٹر بموں کا استعمال کر رہا ہے، جو ہوائی دفاعی نظام کو چکمہ دے کر کئی جگہوں پر چھوٹے دھماکہ خیز مواد گراتے ہیں۔
 



Comments


Scroll to Top