Latest News

ہرمز جنگ میں امریکہ پڑا اکیلا؟ ٹرمپ کی اپیل پر اتحادیوں نے پھیرا منہ، اب کیسے بچے گا دنیا کا 20 فیصد تیل ؟

ہرمز جنگ میں امریکہ پڑا اکیلا؟ ٹرمپ کی اپیل پر اتحادیوں نے پھیرا منہ، اب کیسے بچے گا دنیا کا 20 فیصد تیل ؟

واشنگٹن/تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان جاری شدید جنگ اب اپنے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ کے دوران دنیا کی تیل لائف لائن کہی جانے والی ہرمز اسٹریٹ کی حفاظت کے حوالے سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سخت حکمت عملی اپنا لی ہے۔ ٹرمپ نے دنیا کے طاقتور ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سمندری راستے کی حفاظت کے لیے اپنے جنگی جہاز بھیجیں، حالانکہ ان کی اس درخواست پر اتحادی ممالک نے سرد رویہ اختیار کیا ہے۔
مدد کریں تو اچھا، نہ کریں تو اور بھی اچھا
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے سخت لہجے میں کہا کہ وہ ہرمز کی نگرانی کے لیے سات ممالک سے بات چیت کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کون سے ممالک ہماری درخواست کو ٹھکراتے ہیں۔ اگر وہ مدد کرتے ہیں تو بہت اچھا، اور اگر نہیں کرتے، تو بھی بہت اچھا۔ ٹرمپ کا اشارہ صاف تھا کہ جو ممالک اس راستے سے تیل لیتے ہیں، ان پر حفاظت کی ذمہ داری بھی ہونی چاہیے۔
دنیا کا سب سے بڑا چوک پوائنٹ ہے ہرمز
آبنائے ہر مز دنیا کا سب سے اہم سمندری راستہ ہے کیونکہ دنیا کا بیس فیصد تیل یہی سے گزرتا ہے۔ روزانہ تقریباً بیس ملین بیرل تیل کی نقل و حمل ہوتی ہے۔ دنیا کی بیس فیصد ایل این جی کی فراہمی اسی راستے پر منحصر ہے۔ ہندوستان  اور چین جیسی بڑی معیشتوں کی توانائی کی حفاظت کے لیے یہ راستہ زندگی کی ریکھا ہے۔
اتحادی ممالک نے منہ موڑا، کس نے کیا کہا؟
ٹرمپ کی اپیل کے باوجود، ایک ایک کر کے کئی بڑے ممالک نے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا یا دوری اختیار کی۔ جاپان کے وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں ابھی تک سرکاری درخواست موصول نہیں ہوئی اور وہ فی الحال فوجی جہاز بھیجنے پر غور نہیں کر رہے۔ فرانس کے وزیر دفاع کیتھرین واٹرن نے دو ٹوک کہا کہ جب تک جنگ جاری ہے، فرانس اپنے جنگی جہاز نہیں بھیجے گا۔ آسٹریلیا اور ترکی دونوں نے تقریباً اس مشن میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ جرمن قیادت نے اس مشن کی مؤثریت پر شبہ ظاہر کیا۔ جنوبی کوریا نے فی الحال اس معاملے پر غور کرنے کی بات کہی ہے۔
 ایران کی میزائلیں ختم ہونے کے قریب
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں نے ایران کی پیداوار کی صلاحیت کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اب پہلے کی نسبت صرف بیس فیصد ڈرون اور بہت کم میزائل داغ پا رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، اب ہرمز کی نگرانی کرنا ایک چھوٹا سا اقدام ہے کیونکہ ایران کی طاقت اب تقریبا ًختم ہو چکی ہے۔
 



Comments


Scroll to Top