National News

وسطی ایشیا میں نیا اسٹریٹجک کھیل، مسلم دنیا میں بننے والے نئے تزویراتی مساوات، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ملایا ہاتھ

وسطی ایشیا میں نیا اسٹریٹجک کھیل، مسلم دنیا میں بننے والے نئے تزویراتی مساوات، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے ملایا ہاتھ

انٹرنیشنل ڈیسک: ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ابھرتا ہوا دفاعی اور اسٹریٹجک تال میل اگرچہ ابھی غیر رسمی اور ترقی کے مرحلے میں ہے، مگر یہ مسلم اکثریتی ممالک کی جیو سیاست میں گہری ساختی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ اتحاد مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سے آگے بڑھ کر وسطی ایشیا اور چین کی مغربی سرحد تک اثر ڈال سکتا ہے۔ اس ابھرتے ہوئے فارمولے میں ترکی کا کردار اس کی پین ترک شناخت اور اسٹریٹجک خود مختاری کو بڑھانے کی طویل مدتی پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔ 2010 کے بعد سے ترکی نے آرگنائزیشن آف ترکک اسٹیٹس کے ذریعے آذربائیجان، قازقستان، کرغزستان اور ازبکستان جیسے ممالک کے ساتھ سیاسی، ثقافتی اور فوجی تعلقات مضبوط کیے ہیں۔
بایراکتار ٹی بی ٹو ڈرون، الیکٹرانک وارفیئر سسٹم، فوجی تربیت اور انٹیلی جنس تعاون نے اس پلیٹ فارم کو ثقافتی دائرے سے نکال کر اسٹریٹجک بنا دیا ہے۔ سعودی عرب اس سہ فریقی مفاہمت میں الگ کردار ادا کرتا ہے۔ ریاض کے پاس نہ تو ترکی جیسی نسلی و لسانی خواہشات ہیں اور نہ ہی وہ براہ راست فوجی توسیع چاہتا ہے، لیکن اس کی مالی طاقت اور سنی اسلامی دنیا میں مذہبی اثر و رسوخ اسے ایک اہم کھلاڑی بناتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں سعودی پالیسی نظریاتی سرپرستی سے ہٹ کر منتخب سکیورٹی شراکت داریوں کی طرف بڑھی ہے۔ پاکستان میں توانائی، انفراسٹرکچر اور دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری اور ترکی کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں اسی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہیں۔ پاکستان اس ابھرتے ہوئے اتحاد میں فوجی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
معاشی دباو¿ کا شکار پاکستان نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک سے مالی تعاون میں اضافہ کیا ہے۔ اس کی جوہری صلاحیت علاقائی توازن میں اسے منفرد اہمیت دیتی ہے۔ 2025 میں دستخط ہونے والا سعودی پاکستان اسٹریٹجک میوچول ڈیفنس معاہدہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بیرونی سلامتی کی یقین دہانی کی سمت اشارہ کرتا ہے۔ دوسری جانب، ترکی کی دفاعی کمپنیوں کے لیے پاکستان ایک ابھرتی ہوئی منڈی بن گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، جب پین ترک اور پین سنی اثرات کا یہ امتزاج وسطی ایشیا میں پیش کیا جاتا ہے تو یہ روایتی اثر و رسوخ کے علاقوں کو چیلنج کر سکتا ہے۔ ترکی مشترکہ زبان اور تاریخ کے ذریعے اثر ڈالتا ہے، جبکہ سعودی عرب مذہبی نیٹ ورکس اور تعلیمی فنڈنگ کے ذریعے۔ چین کے لیے یہ پیش رفت خاص اسٹریٹجک تشویش کا باعث ہے۔ سنکیانگ جیسے مغربی علاقوں میں استحکام برقرار رکھنا بیجنگ کی ترجیح رہا ہے۔ ایسے میں ترکک اور سنی بیانیے کی بین البر اعظم توسیع چین کی اندرونی اور سرحد پار سلامتی کی حکمت عملیوں کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔



Comments


Scroll to Top