National News

ایرانی رہنما کی کھلی دھمکی: امریکہ۔اسرائیل کو کچل کر دکھائیں گے، سپریمو کی موت قوم کے دل پر وار

ایرانی رہنما کی کھلی دھمکی: امریکہ۔اسرائیل کو کچل کر دکھائیں گے، سپریمو کی موت قوم کے دل پر وار

انٹرنیشنل ڈیسک: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی۔اسرائیلی حملے میں موت کے بعد ملک میں شدید کشیدگی ہے۔ ایرانی میڈیا نے ان کی موت کو شہادت قرار دیا ہے۔ سینئر ایرانی رہنما علی لاریجانی نے امریکہ اور اسرائیل کو براہ راست انتباہ دیتے ہوئے کہا۔ انہوں نے قوم کے دل پر وار کیا ہے، اب ان کا دل بھی چیر دیا جائے گا۔ جواب پہلے سے کہیں زیادہ کچل دینے والا ہوگا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق، آئین کے آرٹیکل 110 کے تحت عبوری قیادت کونسل بنائی جا رہی ہے۔ اس کونسل میں صدر، عدلیہ کے سربراہ، آئینی کونسل کا ایک فقیہ رکن شامل ہوں گے جب تک نئے لیڈر کا انتخاب نہیں ہو جاتا۔ یہ کونسل اس وقت تک سپریم لیڈر کے فرائض انجام دے گی۔
امریکی فوجی اڈوں پر حملے شروع۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی مسلح افواج نے اسرائیلی قبضے والے علاقوں اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے ہیں۔ یہ پیش رفت پورے مشرق وسطیٰ میں وسیع جنگ کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق، ایران میں 40 دن کے عوامی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ قومی پرچم آدھے جھکے ہیں۔ بڑے پیمانے پر تعزیتی اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں۔ دارالحکومت تہران سمیت بڑے شہروں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ سرکاری میڈیا ان کی موت کو قوم کی خودمختاری کے لیے آخری قربانی قرار دے رہا ہے۔
اگلا لیڈر کون۔
آیت اللہ علی خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر تھے۔ انہوں نے امام خمینی کے انتقال کے بعد عہدہ سنبھالا تھا۔ اب ان کی موت کے ساتھ اسلامی جمہوریہ کی تاریخ کا ایک 37 سال طویل باب ختم ہو گیا ہے۔ اب سب سے بڑا سوال ہے کہ کیا اقتدار مذہبی رہنماو¿ں کے پاس جائے گا یا پھر طاقتور ریوولوشنری گارڈ زیادہ اثر و رسوخ قائم کرے گا۔ جنگ جیسے حالات میں جانشین کا انتخاب کرنا آسان نہیں ہوگا۔ یہ فیصلہ ایران کے مستقبل کی سمت طے کرے گا۔


 



Comments


Scroll to Top