انٹرنیشنل ڈیسک: ایرانی حملوں کے درمیان امریکی فوج نے ویڈیوز اور تصاویر جاری کی ہیں، جن میں جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے میزائل داغتے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہدف بناتے دکھائے گئے ہیں۔ واشنگٹن اور تل ابیب کے مطابق، یہ مشترکہ مہم ایران کی اعلیٰ قیادت کے ڈھانچے کو نشانہ بنا کر چلائی گئی۔ ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے نیوز ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ حملے کے بعد خامنہ ای کی لاش برآمد کی گئی ہے۔
اس حملے کو دہائیوں میں ایران پر سب سے زیادہ پرعزم فوجی کارروائی کہا جا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے سرکاری تصدیق یا تفصیلی ردعمل کا انتظار ہے۔ رپورٹس کے مطابق، یہ مہم امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ منصوبے کا حصہ تھی۔ سمندری جنگی جہازوں سے کروز میزائل داغے گئے اور لڑاکا طیاروں نے کئی اسٹریٹجک ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی فوجی اور قیادتی ڈھانچے کو بڑا نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
امریکہ-اسرائیل اور ایران کے تنازع کی وجہ
امریکہ-اسرائیل-ایران تنازع کی جڑ ایران کا جوہری پروگرام، اسرائیل کا سیکورٹی خطرہ، اور امریکہ-ایران کی دہائیوں پرانی دشمنی ہے۔ پابندیاں، پراکسی جنگ، حماس-حزب اللہ کی حمایت اور علاقائی بالادستی کی لڑائی نے تناو بڑھایا۔ حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے اسے کھلے تصادم کی طرف دھکیل دیا۔
https://www.instagram.com/reel/DVVM1HSj8kW/?utm_source=ig_web_copy_link
ایران کا جوہری پروگرام
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے، لیکن اسرائیل اور امریکہ کو خدشہ ہے کہ تہران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔ 2015 میں ہونے والا جوہری معاہدہ تناو کم کرنے کے لیے تھا، لیکن 2018 میں امریکہ کے باہر نکلنے کے بعد حالات پھر بگڑ گئے۔
https://www.instagram.com/reel/DVVPsPdCI-Q/?utm_source=ig_web_copy_link
اسرائیل کی سیکورٹی تشویش
- اسرائیل کا ماننا ہے کہ ایران اس کے وجود کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ تہران پر الزام ہے کہ وہ اسرائیل مخالف تنظیموں جیسے:
- حزب اللہ (لبنان)
- حماس (غزہ)
- کی حمایت کرتا ہے۔ اس سے اسرائیل کی سرحدوں پر مسلسل تناو¿ برقرار رہتا ہے۔
- امریکہ-ایران دشمنی کا پس منظر
- 1979 کی اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور ایران کے تعلقات انتہائی خراب رہے ہیں۔
امریکی پابندیاں
- ایرانی ریولوشنری گارڈ پر کارروائی
- خلیجی علاقے میں فوجی ٹکراو
- شام، عراق، یمن اور لبنان جیسے ممالک میں دونوں فریق مختلف گروہوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
- یہ براہ راست جنگ نہیں، بلکہ پراکسی وارکے طور پر طویل عرصے سے جاری تنازعہ ہے۔