انٹرنیشنل ڈیسک: ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔اسی دوران ایران کے وزیر خارجہ حسین عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کی جانب سے بھیجے گئے تجاویز کو “غور سے پڑھ اور جانچ رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ ابھی بند نہیں ہوا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطہ برقرار ہے۔
ٹرمپ کی دھمکی پر ایران کا الزام۔
ایران کے وزیر خارجہ نے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر سنگین الزام عائد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی وہ وارننگ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران میں مظاہرے خون خرابے میں بدلتے ہیں تو امریکہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے، اس سے حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔عراقچی کے مطابق، ٹرمپ کی دھمکیوں نے دہشت گرد عناصر کو اکسایا، جنہوں نے مظاہرین اور سکیورٹی فورسز پر حملے کیے تاکہ غیر ملکی مداخلت کا بہانہ بنایا جا سکے۔
ٹرمپ کا سخت موقف۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ مسلسل یہ کہتے رہے ہیں کہ ایران کے معاملے میں امریکہ کے پاس “بہت مضبوط آپشنز” موجود ہیں۔امریکی فوج ایران کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے اپوزیشن رہنماو¿ں کے رابطے میں ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ اندرونی حالات پر قریبی نظر رکھ رہا ہے۔
ایران میں تین دن کا قومی سوگ۔
ایران کی حکومت نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مارے گئے افراد کو “شہید” قرار دیتے ہوئے پورے ملک میں تین دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ان ہلاک شدگان میں ایران کی سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں جو مظاہروں کے دوران مارے گئے۔
ہلاکتوں کے اعداد و شمار پر اختلاف۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق حالیہ دنوں میں ایک سو سے زیادہ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔وہیں اپوزیشن کارکنوں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور اس میں سینکڑوں مظاہرین بھی شامل ہیں۔تاہم بین الاقوامی میڈیا ادارے الجزیرہ نے واضح کیا ہے کہ وہ دونوں فریقوں کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
حالات انتہائی سنگین۔
ایران میں احتجاج، تشدد اور بین الاقوامی دباو ایک ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔ایک طرف حکومت امریکہ کی تجاویز پر غور کر رہی ہے، تو دوسری طرف ٹرمپ کی دھمکیوں اور بڑھتی ہلاکتوں نے پورے خطے کو شدید تناوکا شکار بنا دیا ہے۔اب دنیا بھر کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ ایران اور امریکہ آگے کیا قدم اٹھاتے ہیں۔