سری نگر : پاکستان کی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک شیعہ مسجد کو نشانہ بنا کر کیے گئے بھیانک خودکش حملے نے پورے جنوبی ایشیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جمعہ کی نماز کے دوران ہونے والے اس دھماکے میں 69 سے زائد نمازی جاں بحق ہوئے، جبکہ سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے۔ اس حملے کے بعد کشمیر وادی میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، جہاں شیعہ برادری کے لوگوں نے پاکستان کے خلاف زوردار احتجاج کرتے ہوئے حملے کی سخت مذمت کی۔
بتا دیں کہ پاکستان کے اسلام آباد میں ایک شیعہ مسجد کے اندر ایک خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑایا، جس میں 69سے زیادہ نمازی ہلاک ہوئے، جس کے بعد پورے کشمیر میں متعدد احتجاج ہوئے۔ جانکاری کے مطابق شیعہ برادری کے ارکان نے بارہمولہ، سری نگر اور بانڈی پورہ میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے پاکستان مخالف نعرے لگائے اور پاکستان کے اسلام آباد میں شیعہ نمازیوں پر ہونے والے حملے کی مذمت کی۔ رپورٹس کے مطابق مظاہرے چینابل پٹن(بارہمولہ)، امام باڑہ زدیبل، ہروان (سری نگر)، اندر کوٹ-سومبل (بانڈی پورہ)اور ڈائیور پہریہاسپورہ میں ہوئے۔
مظاہرین نے "پاکستان مردہ باد" اور "حکومتِ پاکستان مردہ باد" جیسے نعرے لگائے۔ اس دوران، ہندوستان نے اسلام آباد کی مسجد میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کی اور اس میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ افسوسناک ہے کہ اپنے سماجی ڈھانچے کو بگاڑنے والی مشکلات کو سنجیدگی سے حل کرنے کے بجائے، پاکستان اپنی گھریلو برائیوں کے لیے دوسروں کو الزام دے کر خود کو دھوکہ دے رہا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ ہندوستان ایسے کسی بھی الزام کو مسترد کرتا ہے جو جتنا بے بنیاد ہے، اتنا ہی بیکار بھی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد میں جمعہ کی نماز کے دوران ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہوئے۔ پولیس نے بتایا کہ شہر کے ترلائی علاقے میں شیعہ مسجد کے دروازے کے قریب پہنچنے کے بعد ایک خودکش حملہ آور نے ایک ڈیوائس میں دھماکہ کر دیا، جبکہ عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکے سے پہلے گولیوں کی آوازیں بھی سنائی دی تھیں۔