انٹرنیشنل ڈیسک : عام طور پر لوگ ریستورانوں میں اچھے کھانے اور پرسکون ماحول کے لیے جاتے ہیں لیکن جاپان کے شہر ناگویا میں ایک ایسا ریستوران ہے جو اپنے گاہکوں کا استقبال تھپڑوں سے کرتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ تھپڑ مفت نہیں لگتے بلکہ گاہکوں کو تھپڑ کھانے کے لیے الگ سے پیسے ادا کرنے پڑتے ہیں۔
شچیہوکو یا ریستوران کا انوکھا ماڈل
اس ریستوران کا نام شچیہوکو یا ہے۔ یہاں آنے والے گاہکوں کو کھانا پیش کرنے سے پہلے ویٹریس کی جانب سے زور دار تھپڑ مارے جاتے ہیں۔ اس سروس کے لیے گاہک باقاعدہ قطار میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔
تھپڑ کی قیمت اور پیکج
ریستوران میں ایک تھپڑ کی قیمت 300 جاپانی ین یعنی تقریباً 175 روپے ہے۔ اگر کوئی گاہک اپنی پسند کی کسی خاص ویٹریس سے تھپڑ کھانا چاہے تو اسے 500 ین یعنی تقریباً 293 روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ روایتی کیمونو پہنے ویٹریس اتنے زور سے تھپڑ مارتی ہیں کہ کئی بار گاہک اپنی نشست سے بھی گر جاتے ہیں۔
ذہنی دباوسے نجات کا دعویٰ
رپورٹس کے مطابق گاہک اسے بے عزتی نہیں سمجھتے بلکہ ان کا کہنا ہے کہ اس سے وہ خود کو پرسکون اور ذہنی دباو سے آزاد محسوس کرتے ہیں۔ کئی گاہک تو ویٹریس سے مزید زور سے تھپڑ مارنے کی درخواست بھی کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ سال 2012 میں شروع ہوا تھا۔ ابتدا میں یہ سروس مفت تھی لیکن بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے ریستوران نے اس پر فیس مقرر کر دی۔
سوشل میڈیا پر ملا جلاردعمل
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس ریستوران کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لوگوں کی مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ لوگ اسے انسانی وقار کے خلاف اور توہین آمیز قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ صارفین نے مذاق میں اس نوکری کے لیے درخواست دینے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔