انٹرنیشنل ڈیسک: بھارت میں بجٹ پیش ہونے کے ساتھ ہی چین نے عالمی معیشت میں ایک بڑا پیغام دے دیا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے یوآن کو “مضبوط عالمی کرنسی” بنانے کی وکالت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی ریزرو کرنسی کے طور پر قائم کرنے کا آہوان کیا ہے۔ ماہرین اسے امریکی ڈالر کی بالادستی کو براہِ راست چیلنج مان رہے ہیں اور اس کا اثر بھارت پر بھی پڑنا طے ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کے مرکزی نظریاتی جریدے ‘قوشی’ میں شائع شدہ مضمون میں شی جن پنگ نے کہا کہ چین کو ایسی مضبوط کرنسی چاہیے، جس کا استعمال بین الاقوامی تجارت، سرمایہ کاری اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کے بازاروں میں وسیع پیمانے پر ہو سکے۔
بھارت کے لیے یہ بیان کیوں اہم ہے؟
بھارت اس وقت برکس گروپ کا اہم رکن ہے اور اسی سال برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی بھی کرنے جا رہا ہے۔ ایسے میں چین کی جانب سے یوآن کو آگے بڑھانے کی یہ حکمت عملی بھارت کے لیے سفارتی توازن کا امتحان بن سکتی ہے۔ بھارت اب تک ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے براہِ راست ٹکراو سے بچتا رہا ہے، لیکن برکس کے اندر مشترکہ کرنسی اور متبادل ادائیگی کے نظام پر بحث میں اس کا کردار فیصلہ کن مانا جا رہا ہے۔
تجارت اور توانائی پر اثر
بھارت دنیا کا بڑا توانائی درآمد کنندہ ہے اور روس سے تیل خرید میں پہلے ہی ڈالر کی بجائے متبادل ادائیگی کے طریقے استعمال کر چکا ہے۔ اگر برکس یا یوآن پر مبنی ادائیگی کو فروغ ملتا ہے تو بھارت کو سستے تجارتی مواقع مل سکتے ہیں۔ جبکہ امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک اور تجارتی تعلقات پر دباو¿ بھی بڑھ سکتا ہے، جیسا کہ روسی تیل کے معاملے میں پہلے دیکھا گیا ہے۔
برکس کرنسی بمقابلہ ڈالر
چین اور روس طویل عرصے سے برکس مشترکہ کرنسی اور برکس Pay کو فروغ دے رہے ہیں۔ بھارت کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ کیا وہ اس پہل کی قیادت کرے گا؟ یا پھر ڈالر پر مبنی نظام اور کثیرالقطبی متبادلات کے درمیان توازن قائم کرے گا؟ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ انتباہ دے چکے ہیں کہ ڈالر کی بالادستی کو چیلنج کرنے پر برکس ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔ یہ انتباہ براہِ راست بھارت کی اقتصادی حکمت عملی سے جڑا ہے۔
یوآن بمقابلہ روپیہ
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یوآن بین الاقوامی سطح پر مضبوط ہوتا ہے تو ایشیا میں کرنسی کی مسابقت تیز ہوگی۔ بھارت کے لیے یہ موقع بھی ہے اور خطرہ بھی۔ بھارت ایک طرف امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری نبھا رہا ہے، دوسری طرف برکس اور عالمی جنوبی ممالک کا اہم رکن ہے۔ چین کا یہ قدم بھارت پر لازم کرتا ہے کہ وہ عالمی مالیاتی نظام میں اپنی آزاد اور متوازن کردار واضح کرے۔
ڈالر پر انحصار کم کرنے کی حکمت عملی
چین، جو امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے، پچھلے چند سالوں سے ڈالر پر انحصار کم کرنے کی سمت میں مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ سال 2025 میں چین نے اپنے 6.2 ٹریلین ڈالر کے غیر ملکی تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ یوآن میں نمٹایا۔ روس کے ساتھ تیل اور گیس کے کاروبار میں یوآن بڑے پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، چین نے اب تک تقریباً 50 ممالک کے ساتھ کرنسی سویپ معاہدے کیے ہیں، جس سے مقامی کرنسیوں میں تجارت کو فروغ مل سکے۔
کیا یوآن ابھی بھی ‘کم قدر’ ہے؟
حالانکہ پچھلے ایک سال میں یوآن ڈالر کے مقابلے میں مضبوط ہوا ہے، لیکن گولڈمین سیکس سمیت بین الاقوامی سرمایہ کاری بینکوں کا ماننا ہے کہ یوآن ابھی بھی اپنی حقیقی قیمت سے تقریباً 25 فیصد کم قیمت پر تجارت کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی مرکزی بینک مضبوط یوآن چاہتا ہے، لیکن تیز ا±چھال سے بچنے میں محتاط ہے۔
برکس اور بھارت کا کردار
- چین اور روس، برکس گروپ کے اندر مشترکہ کرنسی اور برکس Pay جیسے ادائیگی کے نظام کو فروغ دے رہے ہیں۔
- اس سال برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی بھارت کرے گا، جہاں یہ معاملہ اہم ایجنڈے میں رہنے کا امکان ہے۔
- اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی انتباہ دے چکے ہیں کہ ڈالر کو چیلنج کرنے پر برکس ممالک پر بھاری فیس عائد کی جا سکتی ہے۔
مغربی ماڈل سے مختلف راستہ
شی جن پنگ نے واضح کیا کہ چین کا مالیاتی نظام مغربی ماڈل سے مختلف ہوگا اور اس کی قومی صورتحال کے مطابق ترقی دی جائے گی۔ انہوں نے مضبوط معیشت، بااختیار مرکزی بینک، مالیاتی ادارے اور بین الاقوامی مالیاتی مراکز کو “مالیاتی سپر پاور” بننے کی شرط بتایا۔